تعمیر مسجد کے لیے حکومتی امداد

مسئلہ:

اگر حکومتِ وقت کسی مسجد کے تعمیری کام میں تعاوُن کرتی ہے، تو اس تعاون کو قبول کرنا شرعاً درست ہے، کیوں کہ حکومت یہ تعاون عوام سے وصول کیے ہوئے ٹیکس کی رقومات سے دیتی ہے، اور ظاہر بات ہے کہ عوام پر ٹیکس لگانا اور اسے وصول کرنا اسی مقصد سے ہوتا ہے، کہ ٹیکس کی یہ رقم مفادِ عام میں خرچ ہو، اور تعمیر مسجد مفادِ عام میں داخل ہے، لہٰذا اِس تعاون کو قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” تفصیل عقد الفرائد بتکمیل قید الشرائد المعروف ب (شرح منظومة ابن وهبان) “ :ثم رقم للحلواني وقال:والنائبة؛ما یضرب السلطان علی الرعیة للمقاتلة لمصلحة الرعیة۔وقال أبو جعفر البلخي:هي ما یضرب السلطان علی الرعیة لمصلحة لهم۔وقیل:أجرة الحارس ونحوه وأنه واجب شرعًا۔(۸۹/۱،ط:مکتبة الوقف المدني الخیري دیوبند)

ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : ومصرف الجزیة والخراج ومال التغلبي وهدیتهم للإمام وما أخذ منهم بلا حرب مصالحنا کسد ثغور وبناء قنطرة وجسر وکفایة العلماء ۔ تنویر۔ وفي الشامیة: قوله: (وبناء قنطرة وجسر) القنطرة ما بني علی الماء للعبور ۔۔۔۔۔۔ ومثله بناء مسجد وحوض ورباط وکری أنهار عظام غیر مملوکة کنیل وجیحون۔

(۳۴۸/۶۔۳۴۹ ، کتاب الجهاد، باب العشر والخراج والجزیة، مطلب في مصارف بیت المال، ط: بیروت)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۱۴۵۸۸)

اوپر تک سکرول کریں۔