مسئلہ:
اگر کسی محلہ یابستی کے لوگ مالی اعتبار سے مضبوط ہوں، اور بآسانی اپنے صرفے سے مسجد کی تعمیر کرسکتے ہیں، تو انہیں اپنے صرفے سے ہی مسجد کی تعمیر کرنی چاہیے، کہ یہ اصلاً انہی کا حق ہے، تاہم دوسروں سے مدد وتعاون حاصل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، البتہ جو چندہ تعمیر مسجد کے نام پر ہو، اُسے تعمیر مسجد ہی میں صرف کرنا چاہیے، آرائش وزیبائش میں لگانا درست نہیں، ہاں! ایسی چیزوں میں لگاسکتے ہیں جس سے مسجد کی تعمیر کو مضبوطی وصفائی حاصل ہوتی ہو، اور ساتھ ساتھ خوبصورتی بھی آجاتی ہو، مسجد کی تزئین کاری میں حدودِ شرعیہ سے تجاوُز کرنا خواہ اپنے مال سے ہو یا غیر کے مال سے، جائز نہیں ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” عون المعبود “ : عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: ” ما أمرتُ بتشیید المساجد “ ۔ قال ابن عباس: ” لتُزَخرفنّها کما زخرفت الیهود والنصاری “۔
(ص:۲۲۹، رقم الحدیث:۴۴۸، کتاب الصلاة، باب في بناء المسجد، ط: بیت الأفکار الدولیة عمان الأردن)
وفیه أیضًا: والزخرفة الزینة، وأصل الزخرف الذهب، ثم استعمل في کل ما یتزین به ۔۔۔۔۔۔ والمعنی أن الیهود والنصاری إنما زخرفوا المساجد عندما حرفوا وبدلوا وترکوا العمل بما في کتبهم، یقول: فأنتم تصیرون إلی مثل حالهم إذا طلبتم الدنیا وترکتم الإخلاص في العمل، وصار أمرکم إلی المراءاة بالمساجد والمباهاة في تشییدها وتزیینها ۔۔۔۔۔۔ قال علي القاري: وهذا بدعة لأنه لم یفعله علیه السلام وفیه موافقة أهل الکتاب۔ (ص:۲۳۰، رقم:۴۴۸)
ما في ” الهندیة “ : ولو وقف علی عمارته یصرف إلی بنائه وتطیینه دون تزیینه۔
(۴۶۱/۲، کتاب الوقف، الباب الحادي عشر في المسجد وما یتعلق به، الفصل الثاني في الوقف علی المسجد وتصرف القیم وغیره في مال الوقف علیه)
ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : (ولا بأس بنقشه خلا محرابه بجص وماء ذهب) لو (بماله) الحلال (لا من مال الوقف) فإنه حرام (وضمن متولیه لو فعل) النقش أو البیاض ۔۔۔۔۔۔ وإلا إذا کان لإحکام البناء ۔ اه ۔ تنویر مع الدر ۔ وفي الشامیة: وأما من مال الوقف فلا شک أنه لا یجوز للمتولي فعله مطلقًا لعدم الفائدة فیه، خصوصًا إذا قصد به حرمان أرباب الوظائف کما شاهدناه في زماننا۔(۴۳۱/۲ ، کتاب الصلاة، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها، ط: بیروت)
وما في ” الهندیة “ : أما التجصیص فحسن لأنه إحکام للبناء ۔ کذا في الاختیار شرح المختار ۔ (۳۱۹/۵، کتاب الکراهیة، الباب الخامس في آداب المسجد الخ)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۲۲۴۶)
