تعمیر مسجد کے وقت اذان وجماعت

مسئلہ:

اگر کسی مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا جارہا ہو، تو تعمیر میں ایسا طریقہٴ کار اختیار کرناچاہیے کہ مسجد میں اذان وجماعت کا نظام جاری ہے، اور تعمیری کام بھی ہوتا رہے، اگر تعمیری کام کی وجہ سے کل نمازیوں کے نماز باجماعت پڑھنے کی صورت نہ ہوسکے، تو کچھ نمازی باجماعت اُسی مسجد میں نماز پڑھ لیں، اور بقیہ نمازی دوسری مسجد میں چلے جایا کریں، اگر دوسری مسجد نہ ہو، یا ہو مگر بہت دور ہو کہ عامةً نمازیوں کو وہاں پہنچنے میں دشواری ہو، تو مسجد سے قریب کسی خالی جگہ جماعت سے نماز ادا کی جاسکتی ہے، اور اس جماعت کے لیے مسجد کی اذان کافی ہوجائے گی، دوسری اذان کی ضرورت نہیں۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : إذا اقتصر علی أذان الحيّ وإقامته أجزأه لما روي أن عبد الله بن مسعود ” صلی بعلقمة والأسود بغیر أذان ولا إقامة، وقال: یکفینا أذان الحي وإقامتهم “۔(۱۳/۶،إقامة،بدائع الصنائع:۴۱۶/۱۔۴۱۷،ط: العاصمة،الدر المختار مع الشامیة:۲۶۴/۱۔۲۶۵، احیاء التراث العربي)

ما في ” المصنف لعبد الرزاق “ : عبد الرزاق عن الثوري عن الأعمش عن إبراهیم عن علقمة ” أن عبد الله صلی بعلقمة والأسود “ ۔ (۴۰۹/۲، رقم الأثر:۳۸۸۴)

وفیه : عب الرزاق عن معمر عن حماد عن إبراهیم أن علقمة والأسود أقبلا مع ابن مسعود إلی مسجد فاستقبلهم الناس قد صلَّوا، فرفع بهما إلی البیت، فجعل أحدهما عن یمینه والآخر عن شماله ثم صلّی بهما “۔ (۴۰۹/۲، رقم الأثر:۳۸۸۳، باب الرجل یوٴم الرجلین والمرأة، ط: مجلس علمي و دار السلفیة)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۱۲۱۱۱، فتاویٰ رحیمیہ:۱۵۴/۹)

اوپر تک سکرول کریں۔