مسئلہ:
اگر کوئی شخص اپنی زکوة کی رقم فقیر کو نہ دیتے ہوئے، فقیر کے موبائل میں بیلنس ڈال دے، تو اس کی زکوة ادا نہیں ہوگی، کیوں کہ بیلنس کی شکل میں فقیر کو جو کچھ ملا وہ در حقیقت کمپنی کے نیٹ ورک کے استعمال کی ایک محدود ومتعین اجازت واستحقاق ہے، جو روپیوں پیسوں کی تعداد کی شکل میں ظاہر کیا جاتا ہے، یعنی فقیر کو ایک محدود منفعت فراہم کی گئی، یہ عینِ مال کے قبیل کی کوئی چیز نہیں ہے کہ اسے مال قرار دیا جائے، حالانکہ زکوة کی ادائیگی صحیح ہونے کے لیے مستحقِ زکوة کو مال کے قبیل کی کسی چیز کا مالک بنانا ضروری ہے، اور وہ اس صورت میں نہیں پایا گیا، لہٰذا زکوة ادا نہیں ہوگی۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : وشرعًا (تملیک جزء مال) خرج المنفعة فلو أسکن فقیرا دارا سنة ناویا لا یجزیه۔ (۱۷۱/۳۔۱۷۲، کتاب الزکاة)
ما في ” البحر الرائق “ : (هي تملیک المال من فقیر مسلم الخ) والإیتاء هو التملیک ومراده تملیک جزء من ماله وهو ربع العشر أو ما یقوم مقامه ۔۔۔۔۔۔۔۔ قال في الکشف الکبیر في بحث القدرة المیسرة: الزکاة لا تتأدی الزکاة إلا بتملیک عین متقومة حتی لو أسکن الفقیر داره سنة بنیة الزکاة لا یجزئه لأن المنفعة لیست بعین متقومة۔
(۳۵۲/۲۔۳۵۳ ، کتاب الزکاة)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۵۰۱۸۹)
