مسئلہ:
اگر مُحرم کے وضو یا غسل کے دوران کچھ بال خود بخود ٹوٹ جائے، تو ہر تین بال کے بدلے میں ایک مُٹھی غلہ یعنی گیہوں یا چاول صدقہ کرنا ہوگا، البتہ چاول دینا افضل ہے(۱)، اور یہ صدقہ حدودِ حرم میں موجود فقراء کو دینا لازم نہیں، کسی اور جگہ کے فقراء کو بھی دیا جاسکتا ہے۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” البحر العمیق “ : وعن محمد رحمه الله تعالی: لو سقط من رأسه أو لحیته عند وضوئه ثلاث شعرات ، فعلیه کف من طعام۔
(۸۵۳/۲، الفصل الثالث، إزالة الشعر، إرشاد الساری:ص/۴۶۴، فصل في سقوط الشعر)
(۲) ما في ” إرشاد الساری “ : ولا تختص الصدقة بزمان ولا مکان۔ (ص:۵۶۵)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۴۶۳۳۲)
