مسئلہ:
بکرا یا بکری کی قربانی درست ہونے کے لیے اُن کا سال بھر کا ہونا ضروری ہے، اگر سال بھر سے ایک دن بھی کم ہوگا، تو ان کی قربانی درست نہیں ہوگی، اِس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ جو بکرا -۱۱/ ذی الحجہ کو پیدا ہوا تو آئندہ سال ۱۲/ ذی الحجہ کو اس کی قربانی درست ہے، کیوں کہ سال بھر کی شرط پائی گئی، اور جو بکرا-۱۳/ ذی الحجہ کو پیدا ہوا، تو آئندہ سال اس کی قربانی درست نہیں ہوگی، کیوں کہ وہ ایک سال کا نہیں ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وحول من الشاة۔ قال الشامي رحمه الله تعالی: قال في البدائع: وتقدیر هذه الأسنان لما ذکر یمنع النقصان ولا یمنع الزیادة، فلو ضحی بسن أقل لا یجوز وبأکبر یجوز وهو أفضل۔(۴۶۶/۹ ،کتاب الأضحیة، الفتاوی الهندیة:۲۹۶/۵، کتاب الأضحیة، الباب الخامس، بدائع الصنائع:۳۰۱/۶، کتاب التضحیة)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند:۵۴۳/۱۵)
