مسئلہ:
ہمارے زمانے کے یہود ونصاریٰ اپنی تمام محرمانہ حرکتوں کے باوجود اہلِ کتاب ہی ہیں(۱)، تاہم وہ یہود ونصاریٰ جو اپنے اصلی مذہب کو پسِ پشت ڈال کر دھریت کا شکار ہوچکے اور خدا تعالیٰ کے وجود کے ہی منکر ہوچکے، ایسے یہود ونصاریٰ اہلِ کتاب میں قطعاً شامل نہیں، بلکہ دھری ہیں، جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اِس قسم کے یہود ونصاریٰ کا اہلِ کتاب میں داخل نہ ہونا منقول ہے، لہٰذا ایسے یہود ونصاریٰ کے ہاتھ کا ذبیحہ کھانا اور اُن کی عورتوں سے نکاح کرنا جائز نہیں ہوگا۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وطعام الذین اوتوا الکتٰب حِلٌّ لکم﴾ ۔ (المائدة:۵)
(۲) ما في ” تفسیر المظهری“ : وروی ابن الجوزي بسنده عن علي رضي الله عنه قال: ” لا تأکلوا من ذبائح نصاری بني تغلب، فإنهم لم یتمسکوا من النصرانیة بشيء إلا شربهم الخمر، ورواه الشافعي رحمه الله بسند صحیح عنه، وأخرج عبد الرزاق من طریق ابراهیم النخعي أن علیًا یکره ذبائح نصاری بني تغلب ونسائهم۔
(۷۰/۳، سورة المائدة:۵، التفسیر الکبیر للرازی: ۲۹۳/۴)
ما في ” أحکام القرآن للجصاص “ : وروی محمد بن سیرین عن عبیدة قال: سألت علیًا عن ذبائح نصاری العرب، فقال: ” لا تحل ذبائحهم فإنهم لم یتعلقوا من دینهم بشيء إلا بشرب الخمر“۔(۴۰۶/۲۔۴۰۷، مطلب في أکله علیه السلام من الشاة التي أهدتها إلیه الیهودیة الخ، البحر المحیط:۶۰۳/۳، روح المعاني:۹۶/۴، الجزء السادس، معارف القرآن:۴۸/۳)
ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : إذا انتقل الکتابي إلی دین غیر أهل الکتاب من الکفرة لا توٴکل ذبیحته، لأنه لم یصر کتابیًا، وهذا لا خلاف فیه۔
(۱۸۶/۲۱، ذبائح، حکم من انتقل إلی دین أهل الکتاب أو غیرهم)
(فتاویٰ بنوریہ، رقم الفتویٰ: ۱۵۲۳۵)
