مسئلہ:
آج کل شادیوں کے رشتے طے کرانا ایک مستقل پیشہ بن چکا ہے، جو لوگ یہ خدمت انجام دیتے ہیں، وہ اپنی اِس خدمت کا عوض بھی لیتے ہیں، جسے وہ کمیشن کہتے ہیں، شرعاً یہ اجرت لینا جائز ہے، بشرطیکہ پہلے سے اجرت طے کرلی جائے، معاملہ میں کسی قسم کی دھوکہ دہی نہ ہو، اور رشتہ جوڑنے میں اپنے اثر ورُسوخ اوروجاہت کا دباوٴ نہ ڈالا جائے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” رد المحتار “ : وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار فقال: أرجو أنه لا بأس به، وإن کان في الأصل فاسدًا لکثرة التعامل، وکثیر من هذا غیر جائز فجوزوه لحاجة الناس إلیه کدخول الحمام۔ (۸۷/۹، کتاب الإجارة، مطلب في أجرة الدلال)
ما في ” الفتاوی الهندیة “ : الدلالة في النکاح لا تستوجب الأجر وبه یفتی الفضلي في فتاواه وغیره من مشایخ زماننا کانوا یفتون بوجوب أجر المثل۔ وبه یفتی۔ کذا في جواهر الأخلاطي۔ (۴۵۱/۴، کتاب الإجارة، الباب السادس عشر في مسائل الشیوع في الإجارة، مطلب الاستئجار علی الأفعال المباحة)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۲۸۳۹۸، کتاب الفتاویٰ: ۴۰۴/۵، امداد الفتاویٰ:۳۹۳/۳)
