مسئلہ:
آج کل شادی ہال اور شادی لان بناکر اُسے کرایہ پر دینا ایک کاروبار کی شکل اختیار کرگیا ہے، لوگ شادی ہال اور شادی لان بناکر اُسے اپنے لیے ذریعہٴ آمدنی بناتے ہیں، شرعاً اس میں کوئی مضائقہ نہیں ، یہ جائز ہے، البتہ اس کو ایسے لوگوں کو کرایہ پر دینا، جن کے بارے میں پہلے سے معلوم ہو کہ ان کی شادی میں ویڈیو گرافی ، ناچ گانا اور دیگر منکرات کا ارتکاب ہوگا، موجبِ کراہت یعنی مکروہ ہے، اور تقویٰ کے بھی خلاف ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : لا تصح الإجارة لعسب التیس ولا لأجل المعاصي مثل الغناء والنوح والملاهي۔
(۷۵/۹، کتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة، مطلب في الاستئجار علی المعاصي)
وفیه أیضًا : وجاز إجارة بیت بسواد الکوفة لا بغیرها علی الأصح لیتخذ بیت نار أو کنیسة أو بیعة أو یباع فیه الخمر، وقالا: لا ینبغي ذلک لأنه إعانة علی المعصیة ۔ وبه قالت الثلاثة ۔ زیلعي۔ (۵۶۳/۹، کتاب الحظر والإباحة، فصل في البیع)
ما في ” البحر الرائق “ : جاز إجارة البیت لکافر لیتخذ معبدًا أو بیت نار للمجوس أو یباع فیه خمرًا في السواد، وهذا قول الإمام، وقالا: یکره کل ذلک لقوله تعالی: ﴿وتعاونوا علی البرّ والتقوی ولا تعاونوا علی الإثم والعُدوان﴾۔ (۳۷۲/۸، کتاب الکراهیة، فصل في البیع)
