جہیز کی نمائش اور اعلان وتشہیر کیسا ہے؟

مسئلہ:

آج کل والدین کی طرف سے اپنی لڑکی کو نکاح کے وقت جو سامانِ جہیز دیا جاتا ہے، پلنگ ، بستر، کھانے پکانے کے برتن، فریج، کولر، صوفہ سیٹ اور لڑکی کے کپڑے وچپل وغیرہ، اِن تمام چیزوں کی بڑی ترتیب وتنظیم کے ساتھ بنا سنوار کر رکھا جاتا ہے، اور باقاعدہ اس کی نمائش کی جاتی ہے، شرعاً یہ عمل غلط ہے، کہ اس میں ریا ونمود اور دکھلاوا ہے، اور اس غلط کام کی یہ تاویل کی جاتی ہے کہ موجودہ دور میں بدنیتی اور بے ایمانی عام ہے، اگر اعزہ واقارب اور بستی کے ثِقہ(معتمد) لوگوں کو سامانِ جہیزدکھایا جائے گا، تو بوقتِ ضرورت یہ لوگ شہادت دے سکیں گے کہ ہم نے یہ یہ چیزیں جہیز میں دی تھیں، یہ ایسی تاویل ہے جس میں غلط کام کو حسنِ نیت کا لبادہ پہنایا گیا ، جس سے وہ صحیح نہیں ہوگا، کیوں کہ غلط کام حسنِ نیت سے اچھا نہیں ہوجاتا، اس لیے سامانِ جہیز کے اعلان وتشہیر سے بچنا چاہیے، اگر دینا ہے تو پوشیدہ طور پر دے، اور ضرورت محسوس ہو تو اس کی فہرست بناکر ایک کاپی اپنے پاس رکھے، اور ایک کاپی دولہے کو دینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن جندب قال: قال رسول الله ﷺ: ” من سمّع سمّع الله به، ومن یرائي یرائي الله به “۔ متفق علیه ۔

(ص:۴۵۴، کتاب الرقاق، باب الریاء والسمعة، الفصل الأول، صحیح البخاري:۹۶۲/۲، کتاب الرقاق، باب الریاء والسمعة، رقم:۶۴۹۹، صحیح مسلم:۴۱۲/۲ ، کتاب الزهد، باب تحریم الریاء، رقم:۲۹۸۷)

وفیه أیضًا : عند عبد الله بن عمرو أنه سمع رسول الله ﷺ یقول: ” من سمّع الناس بعمله سمّع الله به أسامِعَ خلقه وحقّره وصغّره “۔ رواه البیهقي في شعب الإیمان۔

(ص:۴۵۴، کتاب الرقاق، باب الریاء والسمعة، الفصل الثاني، رقم:۵۳۱۹)

ما في ” المنهاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج “ : قال العلماء: معناه؛ من رائی بعمله وسمعه الناس لیکرموه ویعظموه ویعتقدوا خیره سمع الله به یوم القیامة الناس وفضحه۔

(۲۳۳/۹، تحت رقم:۲۹۸۶، مرقاة المفاتیح:۵۰۳/۹، باب الریاء والسمعة، تحت رقم:۵۳۱۶)

(فتاویٰ محمودیہ:۳۵۹/۱۷، میرٹھ)

اوپر تک سکرول کریں۔