مسئلہ:
بسا اوقات میاں بیوی کے درمیان علیحدگی وجدائیگی واقع ہوتی ہے، تو سامانِ جہیز اور زیورات کی بابت یہ جھگڑا کھڑا ہوتا ہے کہ یہ کس کی مِلک ہے، شوہر کی یا بیوی کی؟ تو اس سلسلے میں حکم شرعی یہ ہے کہ لڑکے کی طرف سے جو زیور بیوی کو دیئے گئے ، دیتے وقت اگر یہ صراحت کردی گئی تھی کہ یہ لڑکی کی ملک ہے، تو یہ لڑکی ہی کی ملک ہوگا، اور اگر یہ صراحت کردی گئی تھی کہ یہ لڑکے کی ملک ہے، عاریةً لڑکی کو دیئے جارہے ہیں، تو یہ لڑکے کی ملک ہوگا، اور اگر کوئی صراحت نہیں کی گئی تھی ، تو شوہر کے خاندان کا عرف ورَواج معتبر ہوگا، اور اگر کوئی عرف ورَواج نہ ہو، تو شوہر کی نیت اور قول کا اعتبار ہوگا، یہی حکم سامانِ جہیز کا بھی ہے، مگر عامةً سامانِ جہیز لڑکی کی ملک شمار ہوتا ہے، اور یہی دستور ہے، ہاں! جو چیز لڑکی کے لائق نہیں ہے بلکہ لڑکے کے استعمال کی چیز ہے، جیسے مردانہ لباس یا سائیکل وغیرہ، وہ عامةً لڑکی کے نام سے لڑکے کو دینا مقصود ہوتا ہے، اس لیے وہ لڑکے کی مِلک ہوگا۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” النهر الفائق “ : المختار في مسئلة الجهاز أن العرف إن کان مستمرا أن الأب یدفع الجهاز ملکا لا عاریة کما في دیارنا فالقول للزوج وإن کان مشترکا فالقول للأب۔
(۲۶۵/۲، کتاب النکاح ، باب المهر، فتح القدیر لإبن الهمام:۳۶۰/۳، کتاب النکاح، باب المهر، التنویر مع الدر والرد:۳۰۸/۴، کتاب النکاح، باب المهر، مطلب في دعوی الأب أن الجهاز عاریة)
ما في ” الفتاوی الهندیة “ : وإذا بعث الزوج إلی أهل زوجته أشیاء عند زفافها منا دیباج فلما زفت إلیه أراد أن یستر من المرأة الدیباج لیس له ذلک إذا بعث إلیها علی جهة التملیک، کذا في الفصول العمادیة، جهز بنته وزوجها ثم زعم الذي دفعه إلیها ماله وکان علی وجه العاریة عندها وقالت: هو ملکي جهزتنی به أو قال الزوج ذلک بعد موتها فالقول قولهما دون الأب، وحکی عن علي السغدي أن القول قول الأب وذکر قبله السرخسي وأخذ به بعض المشایخ وقال في الواقعات: إن کان العرف ظاهرا بمثله في الجهاز کما في دیارنا فالقول قول الزوج وإن کان مشترکا فالقول قول الأب کذا في التبیین، قال الصدر الشهید: وهذا التفصیل هو المختار للفتوی، کذا في النهر الفائق۔
(۳۲۷/۱، کتاب النکاح، الفصل السادس عشر في جهاز البنت)
(فتاویٰ محمودیہ:۳۶۶/۱۷، میرٹھ)
