مسئلہ:
بیوی والدین سے ہفتے میں ایک مرتبہ، اور دوسرے مَحرَم رشتے داروں سے سال میں ایک مرتبہ، یا علیٰ قدر المراتب؛ عام طور پر جتنے عرصے بعد عورتیں اپنے والدین اورمَحرَم رشتے داروں سے ملتی ہیں، مل سکتی ہے، نیز اگر والدین اور رشتے دار خود ملاقات کے لیے آسکتے ہوں، تو اس صورت میں ان سے ملاقات کے لیے بیوی شوہر کی اجازت ورضامندی کے بغیر نہیں جاسکتی(۱)، اسی طرح ملاقات کے لیے لیجانے اور لانے کا خرچ شرعًا شوہر پر لازم نہیں(۲)، البتہ مروّتاً شوہر کی ذمہ داریوں میں داخل ہے، مذکورہ حکم صرف ملاقات کا ہے، رات کو ان کے یہاں ٹھہرنا شوہر کی اجازت کے بغیر جائز نہیں۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : (ولا یمنعها من الخروج إلی الوالدین) في کل جمعة إن لم یقدرا علی إتیانها علی ما اختاره في الاختیار ولو أبوها ۔۔۔ (ولا یمنعها من الدخول علیها في کل جمعة، وفي غیرهما من المحارم في کل سنة) لها الخروج ولهم الدخول ۔ زیلعي ۔ (ویمنعهم من الکینونة) وفي نسخة: من البیتوتة ۔ تنویر مع الدر ۔ وفي الشامیة: وعن أبي یوسف في النوادر تقیید خروجها بأن لا یقدرا علی إتیانها، فإن قدرا لا تذهب وهو حسن ۔۔۔۔۔ والحق الأخذ بقول أبي یوسف إذا کان الأبوان بالصفة التي ذکرت، وإلا ینبغي أن یأذن لها في زیارتهما في الحین بعد الحین علی قدر متعارف۔
(۳۲۳/۵۔۳۲۴، باب النفقة، مطلب في الکلام علی الموٴنسة، مجمع الأنهر:۱۸۶/۲۔۱۸۷، کتاب الطلاق، باب النفقة)
ما في ” الفتاوی الهندیة “ : وقیل: لا یمنعها من الخروج إلی الوالدین في کل جمعة مرة وعلیه الفتوی ۔ کذا في غایة السروجي ۔ وهل یمنع غیر الأبوین من الزیارة قال بعضهم: لا یمنع المحرم عن زیارة کل شهر، وقال مشایخ بلخ: في کل سنة، وعلیه الفتوی۔ (۵۵۷/۱، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الثاني في السکنی)
(۲) ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : (ولو معه فعلیه نفقة الحضر خاصة) لا نفقة السفر والکراء۔
(۲۹۰/۵، باب النفقة، مطلب لا تجب علی الأب نفقة زوجة ابنه الصغیر، مجمع الأنهر:۱۸۱/۲، باب النفقة)
(فتاویٰ محمودیه:۳۵/۲۹۔۳۶)
