مسئلہ:
کسی انسان کا کسی دوسرے کو کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے پر ”کلما“ کی قسم کھلانا کہ اگر میں فلاں کام کروں، یا فلاں کام نہ کروں، تو جب جب میں نکاح کروں میری بیوی کو طلاق -، شرعاً اس طرح کی قسم کھلانا ممنوع وحرام ہے(۱)، اس لیے اس طرح کی قسم کھلانے سے پرہیز ضروری ہے، اگر کسی نے اس طرح کی قسم کھالی اور وہ بالغ ہے، تو اس کی قسم معتبر ہوگی، اور جب جب وہ خود یا اس کا وکیل اس کا نکاح کرے گا، اس کی بیوی پر طلاقِ بائن واقع ہوجائے گی(۲،۳)، ایسی قسم کھانے والے کا نکاح ہوجائے اور طلاق واقع نہ ہو، اس کے لیے یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے کہ کوئی فضولی اس کا نکاح کردے، اور یہ شخص زبان سے کچھ نہ کہے، اور نہ ہی زبان سے اس نکاح کو قبول کرے، بلکہ فعل سے اس نکاح کی اجازت دیدے، وہ اس طرح کہ بیوی کا مہر معجل ادا کردے، اس سے نکاح ہوجائے گا اور طلاق واقع نہ ہوگی۔(۴)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : (والیمین بالله تعالی) ۔۔۔۔۔ (لا بطلاق وعتاق) وإن ألحّ الخصم، وعلیه الفتوی۔ ” تتارخانیة “ لأن التحلیف بهما حرام۔
(۲۶۷/۸، کتاب الدعوی)
ما في ” البحر الرائق “ : قوله: (والیمین بالله تعالی لا بطلاق وعتاق ۔۔) ۔۔۔۔ والتحلیف بالطلاق والعتاق والأیمان المغلظة یم یجوزه أکثر مشایخنا ۔ اه ۔ وفي الخانیة: وإن أراد المدعی تحلیفه بالطلاق والعتاق في ظاهر الروایة لا یجیبه القاضي إلی ذلک لأن التحلیف بالطلاق والعتاق حرام۔(۳۶۲/۷، کتاب الدعوی)
(۲) ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : (وفیها) کلها (تنحل) أي تبطل (الیمین) ۔۔۔ (إذا وجد الشرط مرة إلا في کلما فإنه ینحل بعد الثلاث ۔۔۔ فلا یقع إن نکحها بعد زوج آخر إلا إذا دخلت) کلما (علی التزوج نحو: کلما تزوجت فأنت کذا لدخولها علی سبب الملک وهو غیر متناه۔(۴۵۷/۴، باب التعلیق)
ما في ” مجمع الأنهر “ : فلو قال: (کلما تزوجت امرأة فهي طالق تطلق بکل تزوج ولو) وصلیة (بعد زوج آخر) لأن صحة هذا الیمین باعتبار ما سیحدث من الملک وهو غیر متناه۔ (۶۰/۲، کتاب الطلاق، باب التعلیق، کذا في الهندیة:۴۱۵/۱، کتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط)
(۳) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن علیها فإن فرق الطلاق بانت بالأولی۔
(۳۷۳/۱، کتاب الطلاق، الفصل الرابع في الطلاق قبل الدخول، تبیین الحقائق: ۳۷۱/۳، کتاب الطلاق، فصل في الطلاق قبل الدخول، کذا في الدر المختار مع الشامیة:۳۸۰/۴، کتاب الطلاق، باب طلاق غیر المدخول بها)
(۴) ما في ” مجمع الأنهر “ : والحیلة فیه عقد الفضولي ۔۔۔ وکیفیة عقد الفضولي أن یزوجه فضولي فأجاز بالفعل بأن ساق المهر ونحوه لا بالقول ، فلا تطلق۔
(۶۰/۳، کتاب الطلاق، باب التعلیق، الفتاوی الهندیة:۴۱۹/۱، الفصل الثاني في تعلیق الطلاق، کذا في الأشباه والنظائر:۳۵۲/۱، الفن الخامس في الحیل)
(فتاویٰ قاضی:ص/۱۳۲، فتاویٰ محمودیہ:۹۳.۹۱/۱۳)
