مسئلہ:
ایم سی ایکس (MCX) نامی کمپنی جو آن لائن سامانوں کا بزنس(Business) کرتی ہے، جس میں سونا، چاندی، خام تیل وغیرہ کے سودے آن لائن ہوتے ہیں، جتنا مال خریدنا ہو اس کی دس فیصد قیمت جمع کرانے پر وہ چیزیں گاہک کے نام چڑھ جاتی ہیں، اس کو جب چاہیں بیچ بھی سکتے ہیں، اور اس مال کو گھر منگوانا ہو تو پوری قیمت جمع کرانے پر وہ مال گھر بھی آجاتا ہے، کاروبار کی یہ صورت اِس حد تک تو درست ہے- کہ آن لائن سامان خرید کر دس فیصد رقم جمع کردے، اور بقیہ رقم بعد میں ادا کرکے سامان گھر منگوالیا جائے، لیکن سامان بغیر گھر منگوائے، یا اُن پر قبضہ کیے بغیر دوسرے کے ہاتھ فروخت کرنا جائز نہیں، رسول اللہ ﷺ نے قبضہ سے پہلے بیع کو منع فرمایا ہے(۱)، اور اگر بُکنگ اُدھار ہو اور نقد رقم کچھ بھی نہ دی جائے، تو یہ بیع الکالی بالکالی یعنی اُدھار کی بیع اُدھار کے ذریعہ ہونے کی وجہ سے بالکلیہ ناجائز ہے۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱)ما في ” صحیح البخاري “ : عن ابن عباس رضي الله عنهما یقول:”أما الذي نهی عنه النبي ﷺ فهو الطعام أن یباع حتی یقبض،قال ابن عباس: ولا أحسب کلّ شيء إلا مثله“۔(۲۸۶/۱، کتاب البیوع،باب بیع الطعام قبل أن یقبض وبیع مالیس عندک،رقم الحدیث:۲۱۳۵،مشکوة المصابیح:ص/۲۴۷،کتاب البیوع،باب المنهي عنها من البیوع)
ما في ” موسوعة فتح الملهم “ : فیحرم بیع کل شيء قبل قبضه طعامًا کان أو غیره۔ (۳۵۰/۱، باب بطلان بیع المبیع قبل القبض)
ما في ” مجمع الأنهر “ : لا یصح بیع المنقول قبل قبضه لنهیه علیه السلام عن بیع ما لم یقبض، ولأن فیه غرر انفساخ العقد علی اعتبار الهلاک۔
(۱۱۳/۳، باب البیع الفاسد، الهدایة:۷۷/۳، کتاب البیوع، باب التولیة، البحر الرائق:۱۹۳/۶، کتاب البیوع، فصل في بیان التصرف في البیع، تبیین الحقائق:۴۳۵/۴، کتاب البیوع، فصل في معرفة المبیع)
(۲) ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن ابن عمر أن النبي ﷺ نهی عن بیع الکالئ بالکالئ ۔ رواه الدار قطني ۔
(ص:۲۴۸، کتاب البیوع، باب المنهي عنها من البیوع، الفصل الثاني، رقم الحدیث:۲۸۶۳، سنن الدارقطني:۶۰/۳، کتاب البیوع، رقم الحدیث:۳۰۴۱)
ما في ” مرقاة المفاتیح “ : (بیع الکالئ بالکالئ) أي النسیئة بالنسیئة ۔۔۔ وذلک أن یشتری الرجل شیئًا إلی أجل فإذا حل الأجل لم یجد ما یقضی فیقول: بعینه إلی أجل آخر بزیادة شيء فیبیعه منه ولا یجری بینهما تقابض۔ (۷۶/۶، باب المنهي عنها من البیوع)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۲۶۹۹۱)
