مسئلہ:
بسا اوقات کسی شخص کے پاس جعلی نوٹ آجاتا ہے، اُسے پتہ ہوتا ہے کہ یہ جعلی نوٹ ہے، اس کے باوجود وہ اسے آگے چلاتا ہے، اور اس سے اپنی ضرورت کی چیزیں خریدتا ہے، دکاندار کو نہیں بتاتا کہ یہ جعلی نوٹ ہے، جب کہ یہ دھوکہ دینے میں شامل ہے، اور اس پر لازم ہے کہ جس دکان سے جتنی خریداری کی اتنی صحیح رقم دکاندار کو کسی طریقہ سے ادا کردے، ظلم کوئی کرے اور بدلہ کسی اور سے لیا جائے، یہ عقلمندی وانصاف نہیں ، بلکہ جس نے یہ نوٹ دیا ہے اسی کو واپس کردے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الفتاوی الهندیة “ : رد العدلیات من له بصارة علی أنها زیف فلیس له أن یدفع إلی من یأخذها مکان الجیدة لأنه تلبیس وغدر ۔ کذا في القنیة ۔
(۳۶۷/۵ ،کتاب الکراهیة، الباب السابع والعشرون في القرض والدین)
ما في ” بدائع الصنائع “ : وروي عن أبي یوسف أنه أنکر استقراض الدراهم المکحلة والمزیفة وکره انفاقها ۔۔۔۔ ولو کان له علی رجل دراهم جیاد فأخذ منه مزیفة أو مکحلة أو زیوفا أو نبهرجة أو ستوقة جاز في الحکم لأنه یجوز بدون حقه، فکان کالحط عن حقه، إلا أنه یکره له أن یرضی به وأن ینفقه وإن بین وقت الإنفاق لا یخلو عن ضرر العامة بالتلبیس والتدریس۔ (۵۱۸/۶، کتاب القرض ورکنه)
ما في ” رد المحتار“ : وعلی هذا إذا قبض رجل دراهم علی رجل وقضاها من غریمه فوجدها الغریم زیوفا فردها علیه بلا قضاء فله ردها علی الأول۔
(۲۰۰/۷، کتاب البیوع، باب خیار العیب ، مطلب مهم قبض من غریمه دراهم فوجدها زیوفا الخ، ط؛ بیروت)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۴۷۴۴۸)
