موبائل کمپنی سے ادھار بیلنس منگوانا

مسئلہ:

بسا اوقات کسی شخص کے موبائل فون کا بیلنس ختم ہوجاتا ہے، تو وہ کمپنی کی طرف سے بیلنس لون منگواتا ہے، جس کی کٹوتی میں کمپنی کچھ زائد پیسے بطورِ ٹیکس چارج کرتی ہے، شرعاً اِن زائد پیسوں پر سود کی تعریف صادق نہیں آتی، کیوں کہ یہ حقیقت میں اُدھار کی وجہ سے کال ریٹ کا بڑھانا ہے، جو بلاشبہ جائز ہے(۱)، ہاں! اگر کمپنی بشکل کرنسی اپنے کسٹمر کو لون دیتی اور پھر اُس سے زائد پیسے وصول کرتی، تو زائد کرنسی سود ہوتی، کیوں کہ زیادتی اس وقت سود ہوتی ہے جب دونوں عوض ایک جنس کے ہوں، اور اگر دونوں عوض الگ الگ جنس کے ہوں، تو زیادتی سود نہیں ہوتی۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱)ما في ” الهدایة “ : ألا یُری أنه یزاد في الثمن لأجل الأجل۔(۵۸/۳،کتاب البیوع،باب المرابحة والتولیة،رد المحتار:۳۶۱/۷ ،کتاب البیوع،باب المرابحة والتولیة، ط؛بیروت)

ما في ” مجمع الأنهر “ : ویصح البیع بثمن حال وموٴجل بأجل معلوم۔ (۱۳/۳، کتاب البیوع)

(۲) ما في ” صحیح البخاری “ : عن أبي بکرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: ” لا تبیعوا الذهب بالذهب إلا سواء بسواء، والفضة بالفضة إلا سواء بسواء، وبیعوا الذهب بالفضة، والفضة بالذهب کیف شئتم “۔(۲۹۰/۱، کتاب البیوع، باب بیع الذهب بالذهب، رقم الحدیث:۲۱۷۵)

ما في ” الهدایة “ : الربوا محرم في کل مکیل أو موزون إذا بیع بجنسه متفاضلا۔ (۶۱/۳، باب الربوا)

ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : وشرعًا فضل خال عن عوض بمعیار شرعي مشروط لأحد المتعاقدین في المعاوضة، وعلته أي علة تحریم الزیادة القدر مع الجنس، فإن وجدا حرم الفضل والنساء، وإن عدما حلا، کهروي بمرویین لعدم العلة فبقی علی أصل الإباحة۔(۳۹۸/۷-۴۰۴، کتاب البیوع، باب الربا ، ط؛ بیروت)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۴۰۰۱۳)

اوپر تک سکرول کریں۔