موبائل کمپنی کے فیل سسٹم سے فری کال کرنا

مسئلہ:

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ موبائل کمپنی کا سسٹم کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے فیل ہوجاتا ہے ، اور کال فری ہوجاتی ہے، ایسے موقع پر ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ فری بات کرلوں، اور وہ اسے سنہری موقع قرار دیتا ہے، اور یہ بھی کہتا ہے کہ ”گنگا بہہ رہی ہے ، ہاتھ دھولو“ – شرعاً یہ رویہ درست نہیں ہے، کیوں کہ سسٹم فیل ہونے کی صورت میں جان بوجھ کر فری کال کرنا – ناجائز فائدہ اُٹھانا ہے، جس کی شرعاً اجازت نہیں(۱)، ہاں! اگر کسی نے لاعلمی میں یا ضرورةً کرلیا، تو جتنی دیر بات کی، اتنی رقم کسی ذریعہ سے کمپنی کو واپس کردے، جس کے لیے یہ صورت اپنائی جاسکتی ہے کہ جتنی رقم کے بقدر بات چیت کی، اتنی رقم کا واوٴچر خرید کر اسے پھاڑدے، استعمال نہ کرے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یا أیها الذین اٰمنوا لا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل إلا أن تکون تجارة عن تراض منکم﴾۔ (سورة النساء:۲۹)

ما في ” أحکام القرآن للجصاص “ : نهی لکل أحد عن أکل مال نفسه ومال غیره بالباطل، وأکل مال نفسه بالباطل انفاقه في معاصي الله، وأکل مال الغیر بالباطل قد قیل فیه وجهان: أحدهما ما قال السدي: وهو أن یأکل بالربا والقمار والبخس والظلم۔ (۲۱۶/۲، باب التجارات وخیار البیع)

ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله ﷺ: ” ألا لا یحل، ألا لا تظلموا مال امرئ إلا بطیب نفسه منه “۔ رواه البیهقي في شعب الإیمان والدار قطني في المجتبی۔ (ص:۲۵۵، کتاب الغصب والعاریة، الفصل الثاني، رقم الحدیث:۲۹۴۶)

ما في ” درر الحکام “ : لا یجوز لأحد أن یتصرف في ملک الغیر بلا إذنه۔ (۹۶/۱، رقم المادة:۹۶)

(۲) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : الأصل أن المستحق بجهة إذا وصل إلی المستحق بجهة أخری اعتبروا أصلا بجهة مستحقة إن وصل إلیه من المستحق علیه۔

(۲۱۵/۷، کتاب البیوع، مطلب رد المشتري فاسد إلی بائعه)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : کل حیلة یحتال بها الرجل لیتخلص بها عن حرام أو لیتوصل بها إلی الحلال فهي حسنة۔

(۳۹۰/۶، کتاب الحیل، الفصل الأول في بیان جواز الحیل وعدم جوازها)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ:۴۹۷۶)

اوپر تک سکرول کریں۔