فکس یا کرنٹ اکاؤنٹ میں رقم جمع کرنا کیسا ہے؟

مسئلہ:

بینک کے فکس سودی اکاوٴنٹ میں رقم رکھنا شرعاً جائز نہیں ہے ، اگر چہ یہ نیت ہو کہ جو زائد رقم ملے گی اسے بلا نیتِ ثواب فقراء پر صدقہ کردوں گا، کیوں کہ فکس سودی اکاوٴنٹ میں رقم رکھنا سودی معاملہ ہے، جو شرعاً حرام ہے(۱)، اور حرام کام حُسنِ نیت سے یعنی؛ اس نیت سے کہ زائد ملنے والی رقم بلانیتِ ثواب صدقہ کردیں گے، جائز ومباح نہیں ہوتا، البتہ اگر کسی شخص نے لاعلمی میں رکھ دیا، اور اس پر اسے زائد رقم ملی، تو اسے اپنی پونجی استعمال میں لانا جائز ہے، اور زائد رقم بینک سے لے کر بلا نیتِ ثواب فقراء ومساکین پر صدقہ کرنا ضروری ہے(۲)۔اگر کوئی حفاظت کی غرض سے رقم رکھوانا چاہے، تو سب سے بہتر اور بے غبار صورت یہ ہے کہ ”لاکر“ میں رکھوائے، البتہ کرنٹ اکاوٴنٹ میں رکھوانے کی بھی گنجایش ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿أحل اللہ البیع وحرم الربوا﴾ ۔ (البقرة: ۲۷۵)

ما في ” سنن ابن ماجة “ : عن عبد اللہ بن مسعود : ” أن رسول اللہ ﷺ لعن آکل الربوا وموکله وشاہدیه وکاتبه “ ۔ (ص:۱۶۵، باب التغلیظ في الربوا ، قدیمي)

وفیه أیضًا :عن أبي ہریرة رضی اللہ تعالی عنه قال:قال رسول اللہ ﷺ:”الربوا سبعون حوباً ،أیسرہا أن ینکح الرجل أمه“۔(ص:۱۶۴،باب التغلیظ في الربوا)

(۲) ما في ” الموسوعة الفقہیة “ : ما یکسبه المقامر ہو کسب خبیث، وہو من المال الحرام مثل کسب المخادع والمقامر، والواجب فی الکسب الخبیث تفریغ الذمة منه برده إلی أربابه إن علموا، وإلا إلی الفقراء ۔ (۴۰۷/۳۹، المیسر)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده علیهم، وإلا فإن علم عین الحرام لا یحل له، ویتصدق به بنیة صاحبه۔

(۳۰۱/۷، کتاب البیوع، مطلب فیمن ورث مالا حراما)

ما في ” بذل المجهود “ : صرح الفقهاء بأن من اکتسب مالاً بغیر حق ، فأما إذا کان عند رجل مال خبیث، فأما إن ملکه بعقد فاسد، أو حصل له بغیر عقد ولا یمکنه أن یرده إلی مالکه، ویرید أن یدفع مظلمة عن نفسه، فلیس له حیلة إلا أن یدفعه إلی الفقراء۔ (۳۵۹/۱، کتاب الطهارة)

(فتاویٰ بنوریه، رقم الفتویٰ: ۸۰۳۸)

اوپر تک سکرول کریں۔