مسئلہ:
حضرات فقہاء کرام نے مالِ حرام مثلاً بینک کے سود کے دومصرف بتائے ہیں: ایک یہ کہ مالِ حرام جہاں سے آیا ہے وہیں واپس کردیا جائے، لیکن اس اصول کو اختیار کرنے کی صورت میں ہماری سودی رقم کو اَغیار ، اسلام دشمنی کے کاموں میں لگادیتے ہیں، اس لیے دوسرے مصرف میں یہ رقم صرف کی جائے ، یعنی مالِ حرام کے وبال سے بچنے کے لیے بلانیتِ ثواب بہت زیادہ غریب ومحتاج ، پریشان حال مقروض ، یا لُٹے پِٹے لوگوں پر صدقہ کردی جائے(۱)، خود اپنے یا مسجد کے بیت الخلاء کی تعمیر میں، اسی طرح اپنے یا مسجد وعیدگاہ کے مقدمہ میں، یاپھر رفاہِ عام کے کاموں میں خرچ کرنا جائز نہیں، راجح قول یہی ہے، کیوں کہ مالِ حرام کا غریبوں پر تصدُّق واجب ہے، اور تصدُّق میں کسی غریب کو دے کر اسے مالک بنانا ضروری ہوتا ہے، رفاہِ عام کے کاموں میں خرچ کرنے کی صورت میں مالک بنانے کی صورت نہیں پائی جاتی۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” بذل المجهود “ : صرّح الفقهاء بأن من اکتسب مالا بغیر حق ۔۔۔۔۔۔۔ إن أخذه من غیر عقد ولم یملکه یجب علیه أن یرده علی مالکه إن وجد المالک، وإلا ففي جمیع الصور یجب علیه أن یتصدق بمثل تلک الأموال علی الفقراء ۔۔۔۔۔۔ وأما إذا کان عند رجل مال خبیث فاما إن ملکه بعقد فاسد أو حصل له بغیر عقد ولا یمکنه أن یرده إلی مالکه، ویرید أن یدفع مظلمته عن نفسه فلیس له حیلة إلا أن یدفعه إلی الفقراء۔
(۳۵۹/۱، کتاب الطهارة، باب فرض الوضوء، تحت رقم:۵۹، رد المحتار:۴۷۰/۹، کتاب الحظر والإباحة، فصل في البیع)
(۲) ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : ویشترط أن یکون تملیکا لا یصرف إلی بناء مسجد وکفن میت وقضاء دینه ۔ تنویر۔ وفي الشامیة : قال الشامي رحمه الله تعالی: قوله: (نحو مسجد) کبناء القناطیر والسقایات واصلاح الطرقات وکری الأنهار والحج والجهاد وکل ما لا تملیک فیه ۔ زیلعي ۔
(۲۹۱/۳، کتاب الزکاة، باب المصرف، الفتاوی الهندیة:۱۸۸/۱، کتاب الزکاة، الباب السابع في المصارف)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۳۱۳۰۷)
