جماعت میں جانے والے امام کی تنخواہ

مسئلہ:

اگر کسی مسجد کا امام؛ چلہ، چار ماہ یا سال کے لیے جماعت میں نکل جائے،اور جماعت میں جانے سے متعلق امام صاحب سے کوئی بات پہلے سے طے نہ ہو، یعنی تنخواہ دی جائے گی یا نہیں؟ تو امام تنخواہ کا حقدار نہیں ہوگا، کیوں کہ اس نے نماز پڑھانے کا عمل نہیں کیا، اب اگر ان کی جگہ عارِضی طور پر کسی دوسرے امام کو رکھا گیا، اور اس کی تنخواہ مقرر کی گئی تو یہ عارِضی امام اپنی مقررہ تنخواہ کا ہی حقدار ہوگا، نہ کہ اصلی امام کی تنخواہ کا۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” جامع الترمذي “ : ” المسلمون عند شروطهم إلا شرطاً حرم حلالا أو أحلّ حراماً “۔

(۲۵۱/۱، باب ما ذکر عن النبي ﷺ في الصلح بین الناس، صحیح البخاري:۳۰۳/۱ ، باب أجرة السمسرة)

(۲) ما فی ” درر الحکام شرح مجلة الأحکام “ : الأجیر الخاص یستحق الأجرة إذا کان في مدة الإجارة حاضراً للعمل، ولا یشترط عمله بالفعل ولکن لیس له أن یمتنع عن العمل، وإذا امتنع لا یستحق الأجرة۔ (۴۵۸/۱، المادة:۴۲۵)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (والثاني) وهو الأجیر (الخاص) ویسمی أجیر واحدٌ (وهو من یعمل لواحد عملاً مؤقتاً بالتخصیص ویستحق الأجر بتسلیم نفسه في المدة وإن لم یعمل کمن استؤجر شهراً للخدمة أو) شهراً (لرعي الغنم) المسمی بأجرٍ مسمی ۔۔۔۔۔ ولیس للخاص أن یعمل لغیره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل۔

(۹۴/۹-۹۶، باب ضمان الأجیر)

(فتاویٰ دار العلوم، رقم الفتویٰ: ۵۰۰۵۹)

اوپر تک سکرول کریں۔