ذاتی ضرورت کے لیے آفس کے فون وغیرہ کا استعمال

مسئلہ:

بعض لوگ دفتری کاموں کی ملازمت سے منسلک ہوتے ہیں، مثلاً کوئی آفس انچارج ہوتا ہے، تو کوئی اہم شخصیت کا سکریٹری ، یا پھر کوئی آفس سے متعلق کاموں کی انجام دہی کے لیے مقرر ہوتا ہے، اور آفس کی تمام چیزیں مثلاً فون، کمپیوٹر ، زیراکس مشین اور گاڑی وغیرہ – ان لوگوں کے زیر استعمال ہوتی ہیں، یہ چیزیں آفس کے کاموں کی انجام دہی کے لیے ہوتی ہیں، مگر یہ ملازمین جائز وناجائز کی پرواہ کیے بغیر اُنہیں اپنے ذاتی استعمال میں بھی لاتے ہیں، حالانکہ اس سلسلے میں اسلامی نقطہٴ نگاہ یہ ہے کہ اگر متعلقہ ادارہ یا فرد کی طرف سے اس طرح کے استعمال کی اجازت ہے، تو استعمال کرنا جائز ہے، ورنہ اپنی ضرورت بیان کرکے باقاعدہ صریح اجازت لینا ضروری ہے، بغیر اجازت استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله ﷺ: ” ألا لا تظلموا، ألا لا یحلّ مال امرئ إلا بطیب نفس منه “۔ رواه البیهقي في شعب الإیمان والدار قطني في المجتبی۔ (ص:۲۵۵، کتاب البیوع، باب الغصب والعاریة، الفصل الثاني، رقم الحدیث:۲۹۴۶)

ما في ” مرقاة المفاتیح “ : (إلا بطیب نفس منه) أي بأمر أو رضا منه۔ (۱۳۵/۶، کتاب البیوع، باب الغصب والعاریة، الفصل الثاني)

(فتاویٰ بنوریہ، رقم الفتویٰ: ۸۳۰۷)

اوپر تک سکرول کریں۔