مسئلہ:
بعض لوگ کسی اہم ومُقتَدَر یا مُقتَدیٰ شخص کی تعظیم وتکریم کے لیے جھُک کر اس کے پیر چھوتے ہیں، اور اُس کی دعائیں لیتے ہیں، یہ غیر قوموں کا طریقہ ہے، دینِ اسلام میں اس کی گنجایش نہیں، نیز کسی کے سامنے رکوع کی طرح جھکنا اور پیر چھونا سجدہٴ تعظیمی کی طرح ہے، جو کہ منع ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” رد المحتار “ : وفي الزاهدي : الإیماء في السلام إلی قریب الرکوع کالسجود۔
(۹۵۱/۹، کتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغیره، بیروت ، المحیط البرهاني:۱۴۸/۶، الفتاوی الهندیة:۳۶۹/۵، سکب الأنهر مع مجمع الأنهر:۲۰۵/۴)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ :۵۰۳۷۶)
