داڑھی اُگانے کے لیے بلیڈ گھمانا کیسا ہے؟

مسئلہ:

اگر کسی شخص کی داڑھی پوری نہیں نکلی، صرف ٹھڈی پر بال اُگے ہیں گالوں پر نہیں، تو وہ اتنی ہی داڑھی رکھنے کا مکلف وپابند ہے، اور اتنی داڑھی رکھنے سے اس پر کوئی گناہ نہیں، بعض لوگ اُسے یہ مشورہ دیتے ہیں کہ داڑھی کو ایک بار پوری طرح سے منڈوالو، تو پوری داڑھی آجائے گی، اس طرح کا مشورہ دینا اور اسے قبول کرنا، دونوں درست نہیں، کیوں کہ پوری داڑھی اُگانے کے لیے تھوڑی داڑھی کو صاف کرنا درست نہیں۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : یحرم علی الرجل قطع لحیته۔ (۵۸۳/۹، کتاب الحظر والإباحة، فصل في البیع)

ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : ذهب جمهور الفقهاء الحنفیة والمالکیة والحنابلة، وهو قول عند الشافعیة إلی أنه یحرم حلق اللحیة لأنه مناقض للأمر النبوي بإعفائها وتوفیرها۔

(۲۲۵/۳۵۔۲۲۶، لحیة، حلق اللحیة)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۴۸۶۷۶)

اوپر تک سکرول کریں۔