مسئلہ:
اکثر ماں باپ یہ کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ اولاد ہماری بات نہیں مانتی، جب کہ ماں باپ کی اطاعت اولاد پر فرض ہے(۱)، دوسری جانب اولاد یہ کہتی ہوئی دکھائی دیتی ہے کہ ہمارے والدین ہماری خواہشات وجذبات کا خیال نہیں رکھتے، اور ہماری طبیعت کے خلاف کام کرنے کا ہمیں حکم دیتے ہیں، اس شکوہ شکایت کی اصل وجہ یہ ہے کہ ماں باپ نے صرف اپنے حق یعنی بچوں پر ان کی اطاعت واجب ہے، اسے یا درکھا، اور اولاد کے حق؛ یعنی والدین کو اپنے بچوں کی خواہشات وجذبات اور طبیعتوں کا خیال رکھنا چاہیے، اسے سِرے سے بھلا دیا(۲)، اسی طرح اولاد نے صرف اپنے حق؛ یعنی بچوں کی خواہشات وطبیعتوں کا خیال رکھنا چاہیے، اسے یا درکھا، اور والدین کے حق؛ یعنی اُن پر والدین کی اطاعت واجب ہے – کو سِرے سے بھلا دیا، اگر والدین اور اولاد دونوں ایک دوسرے کے حقوق کو یاد رکھتے ااور ان کو ادا کرتے، تو یہ شکوہ شکایت زبانوں پر نہ ہوتا، لہٰذا والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کے حقوق کو ادا کریں، اور اولاد کو چاہیے کہ اپنے ماں باپ کے حقوق کو ادا کریں، اس طرح کرنے سے گھر امن وامان اور چین وسکون کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
الحجة علی ماقلنا :
(۱)ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وقضی ربک ألا تعبدوا إلا إیاه وبالوالدین احسانا﴾۔ (سورة الإسراء:۲۳)
ما في ” فتح القدیر لإبن الهمام “ : وعن هذا حرم الخروج إلی الجهاد وأحد الأبوین کاره له، لأن طاعة کل منهما فرض عین۔
(۴۲۵/۵، کتاب السیر، البحر الرائق:۱۲۲/۵، کتاب السیر، التنویر مع الدر والرد:۲۰۲/۶، کتاب الجهاد، مطلب طاعة الوالدین فرض عین)
ما في ” المنهاج شرح مسلم بن الحجاج “ : وأجمع العلماء علی الأمر ببرّ الوالدین وأن عقوقهما حرام من الکبائر۔ (۱۶۰/۸، کتاب البر والصلة، باب بر الوالدین وانهما أحق به)
ما في ” أحکام القرآن للتھانوی “ : طاعة الوالدین واجبة في المعروف لا في معصیة الله۔ (۲۶۱/۲، سورة النساء، الآیة:۳۶)
ما في ” عمدة القاري “ : وقیل للحسن: ما برّ الوالدین؟ قال: تبذل لهما ما ملکت وتطیعهما فیما أمراک ما لم یکن معصیة۔
(۱۲۹/۲۲، کتاب الأدب، باب من أحق الناس بحسن الصحبة، تحت رقم:۵۹۷۱)
ما في ” احیاء علوم الدین “ : ان أکثر العلماء علی أن طاعة الأبوین واجبة في الشبهات، وإن لم تجب في الحرام المحض۔
(۲۱۸/۲، کتاب آداب الألفة والأخوة، حقوق الوالدین والولد، تفسیر القرطبي:۲۳۸/۱۰، سورة الإسراء، الآیة:۲۳)
(۲) ما في ” الدر المنتقی في شرح الملتقی “ : ولا یجبر ولي بالغة علی النکاح ولو بکرا لانقطاع الولایة بالبلوغ فلا یجبر حر بالغ بالأولی۔
(۴۹۰/۱، فصل في الأولیاء والاکفاء، الدر المختار مع الشامیة:۱۱۸/۴، باب الولي)
(فتاویٰ محمودیہ :۱۳۹/۱۷، میرٹھ)
