مسئلہ:
جن غیر مسلم ومسلم ملکوں میں قانون ساز ادارے مخالف شرع قوانین بناتے ہیں وہاں مسلمانوں کے لیے ان اداروں کا ممبر بننا درست ہونا چاہیے، اور ایسے ممبر شخص کو چاہیے کہ جمہوری حقوق سے استفادہ کرتے ہوئے خلافِ شرع قانون سازی کے خلاف آواز اٹھاتا رہے۔
الحجة علی ماقلنا :
ما في ” معارف القرآن “ : ” ایسے مکمل اختیار کے ساتھ کہ کسی خلاف شرع قانون پر مجبور نہ ہو کوئی کافر یا ظالم کی ملازمت اختیار کرلے تو اگرچہ اس کافر ظالم کے ساتھ تعاون کرنے کی قباحت پھر بھی موجود ہے، مگر جن حالات میں اس کو اقتدار سے ہٹانا قدرت میں نہ ہواور اس کا عہدہ قبول نہ کرنے کی صورت میں خلق اللہ کے حقوق ضائع ہونے یا ظلم وجور کا اندیشہ قوی ہو تو بمجبوری اتنے تعاون کی گنجائش حضرت یوسف علیہ السلام کے عمل سے ثابت ہوجاتی ہے، جس میں خود کسی خلاف شرع امر کا ارتکاب نہ کرنا پڑے، کیوں کہ درحقیقت یہ اس کے گناہ میں اعانت نہیں ہوگی، گو سبب بعیدکے طور پر اس سے بھی اعانت کا فائدہ حاصل ہوجائے، اعانت کے ایسے اسباب بعیدہ کے بارے میں بحالات مذکورہ شرعی گنجائش ہے، جس کی تفصیل حضرات فقہاء نے بیان فرمائی ہے، سلف صالحین صحابہ وتابعین میں بہت سے حضرات کا ایسے ہی حالات میں ظالم وجابر حکمرانوں کا عہدہ قبول کرلینا ثابت ہے (قرطبی ومظہری) ۔“ (۹۲/۵)
(نئے مسائل اور اسلامک فقہ اکیڈمی کے فیصلے:ص/۱۳۶،بائیسواں فقہی سمینار ”امروہہ یوپی“ بتاریخ : ۲۵- ۲۷/ ربیع الثانی ۱۴۳۴ھ مطابق ۹- ۱۱ / مارچ ۲۰۱۳ء)
