مسئلہ:
جو سیاسی پارٹیاں کھلے طور پر مسلم دشمن ہیں اور ان کے منشور میں اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت شامل ہے، اور کسی شخص کی یہ نیت ہو کہ وہ پارٹی میں شریک ہوکر اس کے ایجنڈے کو بدلنے کی کوشش کریگا، توایسی پارٹی میں شامل ہونے کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے، کیوں کہ اس طرح کی پارٹیوں میں شرکت اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت میں تعاون کے مترادف ہے، جو شرعاً ممنوع ہے۔
الحجة علی ماقلنا :
ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿ولا تعاونوا علی الإثم والعدوان﴾۔ (المائدة:۲)
ما في ” روح المعاني “ : فیعم النهي ما هو من مقولة الظلم والمعاصي ویندرج فیه النهي عن التعاون علی الاعتداء والانتقام ۔۔۔۔۔۔۔۔ وعن ابن عباس رضي الله تعالی عنهما وأبي العالیة أنهما فسرا الإثم بترک ما أمرهم به وارتکاب ما نهاهم عنه۔
(۸۵/۴، أحکام القرآن للجصاص:۳۸۱/۲، مختصر تفسیر ابن کثیر:۴۷۸/۱، التفسیر المنیر:۴۱۸/۷، الوفاء بالعقود ومنع الاعتداء، والتعاون علی الخیر وتعظیم شعائر الله، تفسیر المظهري:۴۸/۳)
(نئے مسائل اور اسلامک فقہ اکیڈمی کے فیصلے:ص/۱۳۶،بائیسواں فقہی سمینار ”امروہہ یوپی“ بتاریخ : ۲۵- ۲۷/ ربیع الثانی ۱۴۳۴ھ مطابق ۹- ۱۱ / مارچ ۲۰۱۳ء)
