قعدہٴ اخیرہ کے بعد رکعت چھوٹ جائے

مسئلہ:

اگر کسی شخص کو قعدہٴ اخیرہ کے بعدرکعت چھوٹ جانے کا غالب گمان ہو ،اوروہ اس رکعت کو اداکرنے کیلئے سلام پھیرنے سے قبل یا سلام پھیرنے کے بعد متصلًا کھڑا ہوجائے، اور پھر اس کو یاد آئے کہ میں نماز مکمل پڑھ چکا ہوں تو یہ شخص فوراً بیٹھ کر سلام پھیرے، اور اگر کھڑے ہونے کی حالت میں سلام پھیر دے تو بھی جائز ہے مگر خلافِ سنت ہے ۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح “ : (وإن قعد) الجلوس(الأخیرة) قدر التشهد (ثم قام) ولو عمدًا وقرأ ورکع (عاد) للجلوس ، لأن ما دون الرکعة بمحل الرفض (وسلم) فلو سلم قائما صح وترک السُنة ، لأن السُنة التسلیم جالسًا (من غیر إعادة التشهد) لعدم بطلانه بالقیام ۔ (ص/۲۵۵ ، کتاب الصلاة ، باب سجود السهو)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وإن قعد في الرابعة مثلا قدر التشهد ثم قام عاد وسلم ، ولو سلم قائمًا صح ۔ ” الدر المختار “ ۔ وفي الشامیة : قوله : (ثم قام) أي ولم یسجد ۔ قوله : (عاد وسلم) أي عاد للجلوس ، لما مر أن ما دون الرکعة محل للرفض ؛ وفیه إشارة إلی أنه لا یعید التشهد ، وبه صرح في البحر ، قال في الإمداد : والعود للتسلیم جالسًا سنة ، لأن السنة التسلیم جالسًا ، والتیسلم حالة القیام غیرمشروع في الصلاة المطلقة بلا عذر ، فیأتي به علی الوجه المشروع ؛ فلو سلم قائمًا لم تفسد صلاته ، وکان تارکاً للسنة ۔ اھ ۔ (۵۵۳/۲ ، کتاب الصلاة ، باب سجود السهو ، البحر الرائق :۱۸۴/۲ ، کتاب الصلاة ، باب سجود السهو)

اوپر تک سکرول کریں۔