مسافتِ سفرکاآغاز

مسئلہ:

(الف )جوآدمی اپنے گھر سے اپنے شہر کے اندر ہی کسی مقام پر جانے کے لیے نکلے تو خواہ وہ کتنی ہی لمبی مسافت طے کرے ، اگر اس کا ارادہ شہر کے اندر ہی اندر رہنے کا ہے تو وہ شرعاًمسافر شمار نہیں کیاجائے گا،او راس کے لیے سفر کی وہ رخصتیں نہیں ہوں گی جو مسافتِ شرعی کے سفر سے متعلق ہیں ۔(۱)

(ب)جوآدمی اپنی آبادی وشہرسے باہر سفرِ شرعی کے ارادے سے نکلے ، وہی شرعاً نمازمیں قصر اوررمضان المبارک میں روزہ توڑ نے کی اجازت کے مسئلہ میں مسافر ہوگا۔(۲)

(ج)چھوٹے شہروں میں مسافتِ شرعی کاحساب اسی جگہ سے ہوگا جہاں شہر ختم ہواہے ، یعنی شہر ختم ہونے کے بعد ۴۸میل کا سفر کیاجائے تبھی وہ مسافرہوگا۔ (۳)

(د)بڑے شہروں میں،جن کی آبادی میلوں تک پھیل گئی ہے،مسافتِ شرعی کاشمار کس مقام سے ہوگا؟اس میں دونقطہٴ نظر ہیں ،زیادہ حضرات کی رائے ہے کہ جہاں شہرختم ہوتاہے وہیں سے ۴۸میل کی مسافت شمار کی جائے گی ، دوسرانقطہ ٴ نظریہ ہے کہ جس محلہ سے سفر شروع ہواہے وہیں سے مسافت کاشمار ہوگا، البتہ اس پر سبھوں کا اتفاق ہے کہ نماز میں قصر کاحکم شہر سے باہر نکلنے کے بعدہی شروع ہوگا،اور اسی طر ح واپس ہوتے وقت شہر میں داخل ہونے سے پہلے پہلے تک ہی قصر کرنا درست ہوگا۔(۴)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” البحر الرائق “ : قوله : (لا بمکة ومنی ) ․․․․․ ” قید بالمصرین ومراده موضعان صالحان للإقامة لا فرق بین المصرین أو القریتین ، أو المصر والقریة للاحتراز عن نیة الإقامة في موضعین من مصر واحد أوقریة واحدة فإنها صحیحة لأنهما متحدان حکما ؛ ألا تری أنه لو خرج إلیه مسافرا لم یقصر ۔

(۲۳۳/۲ ، کتاب الصلاة ، باب صلاة المسافر)

(۲) ما في ” تبیین الحقائق “ : قال رحمه الله تعالی : (من جاوز بیوت مصره مریدا سیرا وسطا ثلاثة أیام) أي قدر مسیرة ثلاثة أیام لا حقیقة السیر فیها حتی لو قطعه في یوم واحد قصر ۔(۵۰۶/۱ ، کتاب الصلاة ، باب صلاة المسافر)

(۳) (حواله بالا)

) (حواله بالا)  

اوپر تک سکرول کریں۔