مسئلہ:
زکاة سے متعلق نصوص اور عام فقہاء کی تصریحات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جیسے سونا وچاندی میں سے ہر ایک خلقةً ،طبعاً ،او راستعمالاً ثمن ہے (۱)،اسی طرح نصابِ زکاة میں بھی دونوں میں سے ہرایک کا نصاب مستقل ہے،دونوں میں سے کوئی بھی ایک دوسرے پر متفرع نہیں ہے (۲)،مگر یہ حقیقت ہے کہ چاندی کے نصاب سے متعلق نصوص زیادہ ہیں ،اور وہ قوت میں بھی فائق ہیں اسی لئے چاندی کانصاب اتفاقی ہے اور سونے کے نصاب کی بابت کچھ اختلاف رہاہے(۳)،بلکہ مشہور تابعی حضرت عطاءؒ کا بیان تو یہ ہے کہ اس عہد میں چاندی ہی زیادہ رائج تھی یعنی دراہم نہ کہ دینار۔
آج کے اس دو رمیں سونے اور چاندی کے نصاب کی مالیت میں زمین وآسمان کا فرق واقع ہوچکا ہے ،اس لئے نصابِ حرمتِ زکوٰة ووجوبِ زکوة کی کم سے کم مقدار نصابِ چاندی سے مقرر کی جائے تو یہ انفع للفقراء واحوط لغیرہم ہے، انفع للفقراء اس طرح کہ جس کے پاس بھی نصاب چاندی کی مقدارمیں مال ہوگا وہ زکوة نکالے گا ،جس میں فقراء کافائدہ ہے، اوراحوط لغیرہم اس طرح کہ جس کے پاس بھی نصاب چاندی کی مقدار میں مال ہوگا وہ زکوة لے گا نہیں بلکہ دے گا،اور یہ دونوں باتیں اس کے حق میں اولیٰ وبہتر ہیں۔(۴)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” فقه الزکاة “ : الذهب والفضة معدنان نفیسان ناط الله بهما من المنافع ما لم ینط بغیرهما من المعادن، ولندرتهما ونفاستهما أقدمت أمم کثیرة منذ عهود بعیدة علی اتخاذهما نقودا وأثمانا للأشیاء ۔ (ص/۱۷۱ ، زکاة الفضة والذهب)
ما في ” فقه الزکاة “ : ویبدو أن النقود الفضیة کانت هي الشائعة والکثیرة للاستعمال عند العرب في عصر النبوة ، لهذا نصت علیها الأحادیث المشهورة التي بینت مقادیر الصدقات المفروضیة وأنصبتها ، فصرحت بنصاب الدراهم ، کما صرحت بمقدار الواجب فیها ، وعلم منها أن نصاب الفضة مئتا درهم ، وهذا مما لم یخالف فیه أحد من علماء الإسلام ۔ (ص/۱۷۷)
(۲) ما في ” صحیح البخاري “ : عن أبي سعید الخدري أن رسول الله ﷺ قال : لیس فی ما دون خمس أوسق من التمر صدقة ، ولیس فیما دون خمسة أواق من الورق صدقة ، ولیس فیما دون ذود من الإبل صدقة ۔ (۱۹۶/۱، الزکاة ، باب لیس فیما دون خمس ذود صدقة ، الصحیح لمسلم :۱/ ۳۱۵ ، الزکاة)
(۳) ما في ” فقه الزکاة “ : وأما النقود الذ هبیة (الدنانیر) فلم یجیٴ في نصابها أحادیث في قوة أحادیث الفضة وشهرتها ، ولذا لم یظفر نصاب الذهب بالإجماع کالفضة ، غیر أن الجمهور الأکبر من الفقهاء ذهبوا إلی أن نصابه عشرون دینارًا ، وروي عن الحسن البصري : أن نصابه أربعون دینارًا ، وروي عنه مثل قول الأکثرین ، ونصاب الذهب معتبر في نفسه ، وخالف في ذلک طاوس فاعتبر في نصابه التقویم بالفضة ، فما بلغ منه ما یقوّم بمئتي درهم وجبت فیه الزکاة ، وحکی مثله عن عطاء والزهري وسلیمان بن حرب و أیوب السختیاني ۔(ص/۱۷۷ ، زکاة الذهب والفضة)
(۴)ما في”الدر المختار مع الشامیة “:ولو بلغ بأحدهما نصابا وخمسا وبالاٰخر أقل،قوّمه بالأنفع للفقیر۔سراج۔” الدرالمختار“۔(۲۲۹/۳ ، کتاب الزکاة ، باب زکاة المال)
ما في ” الفقه الإسلامي وأدلته “ : ویری کثیر من علماء العصر أن النقود تقدر بسعر الفضة احتیاطا لمصلحة الفقراء ، ولأن ذلک أنفع لهم ، وأری الأخذ بهذا الرأي ؛ لأنه یفتی بما هو أنفع للفقراء۔ (۱۸۲۱/۳ ، کتاب الزکاة ، المبحث الخامس : المطلب الأول : زکاة النقود)
