سونے چاندی کا مقرر کردہ موجودہ نصاب

مسئلہ:

اگر کسی شخص کے پاس سونے اور چاندی کامقررکردہ نصاب ساڑھے باون تولہ (۱/۲، ۵۲ ) یعنی چھ سو بارہ گرام پینتیس ملی گرام (۶۱۲،۳۵) چاندی، یا ساڑھے سات تولہ (۷،۱/۲)یعنی موجودہ مقدارستاسی گرام چارسو اُناسی ملی گرام (۴۷۹، ۸۷) سونانہیں ہے، تو فی الحال جتنے روپئے میں ساڑھے باون تولہ( ۵۲،۱/۲)چاندی خریدی جاسکے، اتنے روپیے کے مالک کوصاحبِ نصاب قرا ر دیاجائیگا ،اور ان روپیوں میں ڈھائی فیصد ( ۲،۱/۲٪)کے حساب سے زکاة واجب ہوگی(۱)،اوراگرکسی کے پاس سونا اور چاندی ہوں مگر دونوں نصاب کو نہ پہونچتے ہوں، تواگر دونوں کی مجموعی قیمت،چاندی کے نصاب کی قیمت کے بقدرہوجائے تب بھی ڈھائی فیصد (۲،۱/۲٪) کے حساب سے زکاة واجب ہوگی۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : فأفاد أن التقویم إنما یکون بالمسکوک عملا بالعرف متقوما بأحدهما إن استویا ، فلو أحدهم أروج تعین التقویم به ، ولو بلغ بأحدهما نصاباً دون الآخر تعین ما یبلغ به ، ولو بلغ بأحدهما نصابا وخمسا وبالآخر أقل ، قومه بالأنفع للفقیر ربع عشر ، وفي کل خمس بضم الخاء بحسابه ففي کل أربعین د رهماً درهمٌ ، وفي کل أربعة مثاقیل قیراطان ۔ الدر المختار ۔ وفي الشامیة : قوله : (یتعین التقویم به) أي إذا کان یبلغ به نصابا لما في النهر عن الفتح : یتعین ما یبلغ نصابا دون ما لا یبلغ ، فإن بلغ بکل منهما ، وأحدهما أروج تعین التقویم بالأروج ۔

(۲۲۸/۳ ،۲۲۹ ، کتاب الزکاة ، باب زکاة المال ، کذا فی مجمع البحرین وملتقی النیرین :ص/۱۸۹ ، کتاب الزکاة ، فصل فی زکاة النقدین)

ما في ” النتف في الفتاوی “ : وأما التي في المال : أحدهما : النصاب الکامل ، ونصاب الذهب عشرون مثقالا ، ونصاب الفضة مائتا درهم ۔

(ص/۱۰۹ ، کتاب الزکاة ، شروطها فی المال النصاب)

(۲) ما في ” الفتاوی التاتر خانیة “ : ویضم الذهب إلی الفضة ، والفضة إلی الذهب ، ویکمل إحدی النصابین بالآخر عند علمائنا ، بخلاف البقر مع الإبل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وفي الینابیع : یرید به أي یقوم الذهب بالدراهم ، وینظر إن بلغ نصابا بالدراهم تجب فیها الزکاة وإلا فلا ۔

(۱۳/۲ ، کتاب الزکاة ، الفصل الثانی فی زکاة المال ، کذا فی بدائع الصنائع :۴۱۱/۲ ، کتاب الزکاة ، فصل فی مقدار الواجب)

اوپر تک سکرول کریں۔