حج کیلئے جمع شدہ رقم میں زکوٰة

مسئلہ:

اگر کسی شخص نے حج کو جانے کیلئے حج کمیٹی ،یا کسی اور ٹور س کمیٹی والے کو پیشگی رقم جمع کردی، تو آمد ورفت کے کرائے اور معلم فیس پر زکوٰة واجب نہیں ہوگی،البتہ جو رقم کرنسی کی صورت میں واپس دی جاتی ہے اور وہ خرچ کے بعد بچ جاتی ہے اورنصاب کے بقدر ہے، تو سال پورا ہونے پر اس پر زکوٰة واجب ہوگی ۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” رد المحتار “ : ویخالفه ما في المعراج في فصل زکاة العروض ؛ ان الزکاة تجب في النقد کیفما أمسکه للنماء أو للنفقة ، وکذا في البدائع في بحث النماء التقدیري ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی ما إذا أمسکه لینفق منه کل ما یحتاجه ، فحال الحول ، وقد بقي معه منه نصاب ، فإنه یزکي ذلک الباقي ، وإن کان قصده الإنفاق منه أیضًا في المستقبل ، لعدم استحقاق صرفه إلی حوائجه الأصلیة وقت حولان الحول ۔ (۱۷۹/۳ ، کتاب الزکاة ، مطلب في زکاة ثمن المبیع وفاءً)

اوپر تک سکرول کریں۔