تجارتی پلاٹ پر زکوة

مسئلہ:

اگر کسی شخص نے کوئی پلاٹ (Plot) بیچنے اور فروخت کرنے کی نیت سے خریدا ہو، تو اس پر بازار ی قیمت (Market Rate) کے اعتبار سے زکوة واجب ہوگی، مثلاً:جس وقت خریدا ہو اس وقت اس کی قیمت صرف پچاس ہزار(50000) تھی، لیکن جس دن سال پورا ہوا ،اس روز اس کی قیمت بازار کے اعتبار سے ایک لاکھ(100000) روپئے ہوں تو ایک لاکھ کی زکوة ادا کرنی ہوگی۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” بدائع الصنائع “ :قال صاحب البدائع علاء الدین أبو بکر الکاساني رحمه الله تعالی : وسواء کان مال التجارة عروضًا أو عقارًا أو شیئًا مما یکال أو یوزن ، لأن الوجوب في أموال التجارة تعلق بالمعنی وهو المالیة والقیمة ، وهذه الأموال کلها في هذا المعنی جنس واحد ۔(۴۱۶/۲ ، فصل فی نصاب أموال التجارة)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : قال الحصکفي رحمه الله تعالی : وتعتبر القیمة یوم الوجوب، وقالا : یوم الأداء ؛ وفي السوائم یوم الأداء إجماعًا وهو الأصح ، ویقوّم في البلد الذي المال فیه ، ولو في مفازة ففي أقرب الأمصار إلیه ۔ فتح ۔ ” الدر المختار “ ۔

(۲۱۱/۳ ، باب زکاة الغنم ، قبیل مطلب : محمد إمام فی اللغة واجب التقلید فیها من أقران سیبویه ، الفتاوی الهندیة :۱۸۰/۱ ، الباب الثالث فی زکاة الذهب والفضة والعروض ، الفصل الثانی فی العروض)

اوپر تک سکرول کریں۔