مسئلہ:
اگر شوہر یا بیوی کو خون چڑھانے کی ضرورت ہو، اور دونوں کا بلڈ گروپ(Blood Group) ایسا ہے کہ ایک دوسرے کو چڑھایا جاسکتا ہے تو بیوی کا خون شوہر کو،یا شوہر کا خون بیوی کوچڑھانے سے رشتہٴ زوجیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا، نکاح بدستور قائم رہتاہے، کیوں کہ شریعتِ اسلام نے محرّمیت کو نسب، مصاہرت اور رضاعت کے ساتھ خاص فرمایاہے، اوران تینوں میں سے کوئی بھی یہاں نہیں پایا گیا۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” کتاب الفقه علی المذاهب الأربعة “ : وأما الذي یوجب حرمة المصاهرة فهو أربعة أمور : أحدها العقد الصحیح ، ثانیها : الوطء سواء کان بعقد صحیح أو فاسد أو زنا ؛ ثالثها : المس ، رابعها : نظر الرجل إلی داخل فرج المرأة ؛ ونظر المرأة إلی ذکر الرجل ۔۔۔۔ الخ ۔ (۶۳/۴ ، کتاب النکاح ، مبحث فیما تثبت به حرمة المصاهرة)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : أسباب التحریم أنواع ؛ قرابة ، مصاهرة ، رضاع ، جمع ، ملک ، شرک ۔ ” الدر المختار “ ۔ (۱۰۰/۴ ، کتاب النکاح ، فصل في المحرّمات ، البحر الرائق :۱۶۳/۳ ، الدر المنتقی علی هامش مجمع الأنهر :۴۷۵/۱ ، النتف في الفتاوی : ص/۱۶۴) (جواهر الفقه:۴۰/۲، فتاویٰ رحیمیه:۱۷۶/۱۰، فتاویٰ محمودیه:۳۳۱/۱۸)
ما في ” المبسوط للسرخسي “ : ” الحکم یثبت بحسب العلة “ ۔ (۱۰۲/۱۳، موسوعة القواعد الفقهیة :۲۲۶/۴)
