مسئلہ:
موجودہ زمانے میں بیسی ڈالنے کاعام رواج ہے ، جس کو بعض علاقوں میں چٹھی ڈالنابھی کہتے ہیں ، اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ چند لوگ مل کر آپس میں قرعہ اندازی کے ذریعہ، یاکسی او ر طریقے سے کسی ایک آدمی کو صدر منتخب کرتے ہیں ، اور تمام حضرات مل کر اس کے پاس یومیہ ،یا ہفتہ واری ،یا ماہانہ رو پیہ جمع کرتے ہیں ،مثلاً ۲۰-افراد پرمشتمل ایک کمیٹی بنائی جاتی ہے ، جس میں ہر شخص یومیہ، یاہفتہ واری ، یاماہانہ ایک سو روپئے صدر کمیٹی کے پاس جمع کرتاہے ، تمام ممبروں کا کل روپیہ ۶۰ہزار، یا۸ہزار،یا۲ہزار ہوجاتا ہے، پہلے ماہ میں یہ پوری رقم صدر کمیٹی کسی ایک شخص کودے دیتا ہے ، پھر دوسرے ماہ سے بقیہ ۱۹ممبروں کے نام باری باری قرعہ اندازی کی جاتی ہے ، جس کے نام قرعہ نکل آتا ہے ، اسے ایک ماہ کی جمع کردہ مکمل رقم دے دی جاتی ہے ، چونکہ اس میں ہر شخص کو اپنی جمع کردہ رقم بغیر کمی بیشی کے مل جاتی ہے گرچہ کہ تقدیم وتاخیرسے ملتی ہے ،اس لیے بیسی(چٹھی)ڈالنے کی یہ صورت شرعاً جائز ہے ، کیوں کہ یہ امدادِباہمی(۱) اور قرضِ حسنہ (۲)کی صورت ہے ، البتہ اگر کوئی ممبر درمیان سے نکلناچاہے تواسے نکلنے کی اجازت ہو، اوراس کی جمع کردہ رقم سوخت نہ ہو، اور اگر مرجائے تو اس کے ورثاء کو لوٹادی جائے ۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : قوله تعالیٰ : ﴿وتعاونوا علی البرّ والتقویٰ﴾ ۔ (سورة المائدة :۲)
ما في ” الجامع لأحکام القرآن للقرطبي “ : قال الأخفش : وهو أمر لجمیع الخلق بالتعاون علی البرّ والتقویٰ أي لیعن بعضکم بعضًا ۔ (۴۶/۶)
(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : قوله تعالیٰ : ﴿من ذا الذي یقرض اللّٰه قرضًا حسنًا﴾ ۔(سورة البقرة : ۲۴۵)
ما في ” تفسیر المظهري “ : والمراد ههنا بالقرض : إما حقیقة ؛ فیکون في الکلام تجوز بتقدیر المضاف أي یقرض عباد الله ۔ (۳۷۹/۱)
ما في ” الجامع لأحکام القرآن للقرطبي “ : قال القرطبي : ثواب القرض عظیم لأن فیه توسِعَة علی المسلم ، وتفریجا عنه ، خرج ابن ماجة في سننه عن انس بن مالک قال : قال رسول الله ﷺ : رأیت لیلة أُسري بي علی باب الجنة مکتوبا ، الصدقة بعشر أمثالها ، والقرض بثمانیة عشر ، فقلت لجبریل : ما بال القرض أفضل من الصدقة ؟ قال : لأن السائل یسأل وعنده ، والمستقرض لا یستقرض إلا من حاجة ۔ (۲۴۰/۳ ، سنن ابن ماجه :ص/۱۷۵ ، باب القرض ، کنز العمال : ۸۷/۶ ، رقم الحدیث :۱۵۳۷۰)
ما في ” کنز العمال “ : قوله علیه السلام : (عن ابن مسعود) ” ما من مسلم یقرض مسلمًا قرضًا مرتین ، إلا کان کصدقتها مرةً “ ۔ (۸۸/۶ ، رقم الحدیث : ۱۵۳۷۷)
