مروجہ لاٹری

مسئلہ:

حالیہ زمانے میں بازارکے اندرلاٹری کی مختلف صورتیں مروج ہیں ،جن میں سے ایک مشہور صورت یہ ہے کہ بازاروں میں مخصوص جگہ پرلاٹری کی مختلف ٹکٹیں ،مختلف قیمتوں کی ہوتی ہیں ،خریدار کسی ایک قیمت یا الگ الگ قیمتوں کے کچھ ٹکٹ خرید لیتاہے ،پھر جب خریدار کا ریکارڈ اصل مرکز میں پہنچتاہے ،اور اس کے نام لاٹری نکل آتی ہے تو اسے متعینہ رقم ملتی ہے ،جو اکثر اوقات روپیہ ہی کی صورت میں ہوتی ہے ،اور ٹکٹ کی رقم سے زیادہ ہی ہوتی ہے، اور یہ سود ہے جوشرعاً حرام ہے(۱)، نیز اس میں نفع ونقصان مبہم اور خطرے میں رہتاہے ،کہ اگرنام نکل آیا تو نفع ہوگا، اور نہ نکلا تو اصل پونجی بھی ڈوب جائیگی ، علاوہ ازیں یہ ٹکٹ خریدنے والے کی محنت کا نتیجہ نہیں، بلکہ محض بَخت یعنی قسمت واتفاق پر مبنی ہوتے ہیں کہ اس کا نام نکل بھی سکتاہے ،اور نہیں بھی نکل سکتا ہے ،ایسے ہی مبہم اور پر خطر نفع ونقصان کو قمار کہتے ہیں ،جو شرعاًناجائز وحرام ہے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿لا تأکلوا الربوآ أضعافا مضاعفة﴾ ۔ (اٰل عمران : ۱۳۰)

ما في ” تبیین الحقائق “ : قال حافظ الدین النسفي رحمه الله تعالی : هوفضل مال بلا عوض في معاوضة مال بمال ۔ (۴۴۶/۴ ، رمز الحقائق شرح کنز الدقائق :۳۲/۲ ، البحر الرائق :۲۰۷/۶، النهر الفائق :۴۶۹/۳ ، کذا في رد المحتار: ۳۹۸/۷ – ۴۰۱ ، کتاب البیوع ، باب الربا)

(۲)ما في ” القرآن الکریم “ : قوله تعالی : ﴿إنما الخمر والمیسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشیطن فاجتنبوه لعلکم تفلحون﴾ ۔ (سورة المائدة : ۹۰)

ما في ” معجم لغة الفقهاء “ : القمار تعلیق الملک علی الخطر والمال من الجانبین ۔ (ص/۳۶۹)

ما في ” الشامیة “ : قال ابن عابدین الشامي رحمه الله تعالی : لأن القمار من القمر الذي یزداد تارة وینقص أخری ، وسمي القمار قمارًا لأن کل واحد من المقامرین ممن یجوز أن یذهب ماله إلی صاحبه ، ویجوز أن یستفید مال صاحبه ، وهو حرام بالنص ۔(۵۷۷/۹ ، الحظر والإباحة ، باب الاستبراء ، فصل في البیع)

اوپر تک سکرول کریں۔