مسئلہ:
آج کل عموماً تاجریاکمپنی وغیرہ ممبر سازی کے ذریعہ فریج ،کولر، واشنگ مشین، سائیکل ، موٹر سائیکل وغیرہ اسکیم کے تحت فروخت کرتے ہیں ،جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ کسی چیز کی اصل قیمت بازار میں مثلاً :پانچ ہزار روپئے ہیں ،تو وہ لوگ پوری رقم یکبارگی لینے کے بجائے ،سوروپے ماہانہ ادا کرنے والے سوممبر۴۵ماہ کے لئے بنالیتے ہیں، اور ہرماہ پابندی کے ساتھ قرعہ اندازی کی جاتی ہے ، اگر پہلے ہی ماہ میں کسی ممبر کانام قرعہ اندازی سے نکل آتاہے ،تو اس کو صرف سوروپے میں پانچ ہزار کی چیز مل جاتی ہے، اور اگر کسی کا نام دوسرے ماہ میں نکلا تو پانچ ہزار کی چیز اسے صرف دوسومیں مل جاتی ہے ،اسی طرح ہرماہ قرعہ اندازی میں نام نکلنے والے کو وہ چیز جمع شدہ رقم کے عوض ملتی رہتی ہے ،اب پینتالیسویں ماہ میں جتنے ممبرباقی رہیں گے، سب کو وہ چیز دیدی جائے گی ،اس طرح کی اسکیم شرعاً قماریعنی جوا (۱) کو شامل ہے ،نیز بوقتِ عقد، ثمن مجہول ہوتاہے (۲)، لہٰذا یہ اسکیم چلانا ،اس میں حصہ لینا، اور قرعہ اندازی سے طے شدہ اشیاء کاحاصل کرناشرعاً ناجائز ہے ۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : قوله تعالیٰ : ﴿إنما الخمر والمیسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشیطن فاجتنبوه﴾ ۔ (سورة المائدة : ۹۰)
ما في ” الشامیة “ : لأن القمار من القمر الذي یزداد تارة وینقص أخریٰ ، وسمي القمار قمارًا لأن کل واحد من المقامرین ممن یجوز أن یذهب ماله إلیٰ صاحبه ، ویجوز أن یستفید مال صاحبه ، وهو حرام بالنص ۔ (۵۷۷/۹ ، ۵۷۸ ، الحظر والإباحة ، باب الاستبراء ، فصل في البیع)
ما في ” معجم لغة الفقهاء “ : القمار تعلیق الملک علی الخطر والمال من الجانبین ۔(ص/۳۶۹)
(۲) ما في ” الصحیح لمسلم “ : وعن أبي هریرة قال : ” نهیٰ النبي ﷺ عن بیع الغرر وبیع الحصاة “ ۔ (۲/۲ ، جامع الترمذي :۲۳۳/۱)
ما في ” المبسوط للسرخسي “ : الغرر ما یکون مستور العاقبة ۔ (۱۹۴/۱۲)
ما في ” بدائع الصنائع في ترتیب الشرائع “ : الغرر هو الخطر الذي یستوي فیه طرف الوجود والعدم بمنزلة الشک ۔ (۱۶۳/۵)
ما في ” الشامیة “ : وأما الثالث : وهو شرط الصحة فخمسة وعشرون : ومنها عامة ومنها خاصة ، فالعامة لکل بیع شروط الانعقاد المارة : لأن ما لا ینعقد لا یصح ، وعدم التوقیت ومعلومیة المبیع ومعلومیة الثمن بما یرفع المنازعة فلا یصح بیع شاة من هذا القطیع ، وبیع الشيء بقیمته ۔ (۱۵/۷ ، البیوع ، مطلب شرائط البیوع أنواع أربعة)
