شی ٴمستأجرہ پر تعدّی کی صورت میں ضمان

مسئلہ:

آج کل لوگ گاڑی کرایہ پر لے کر سفر کرتے ہیں ،اس کی عموماً دو صورتیں ہوتی ہیں:

 (۱) گاڑی اس وضاحت کے ساتھ کرایہ پر لے کہ صرف اور صرف وہی اس گاڑی پر سواری کرے گا، چنانچہ اگر وہ خود تنِ تنہا سوار ہوا، اور دورانِ سفر گاڑی کا کوئی پارٹ (Part)خراب ہواتو کرایہ پر لینے والا ضامن نہیں ہوگا،بلکہ یہ نقصان گاڑی کے مالک کا شمار ہوگا۔

 (۲)گاڑی کرایہ پر لی، اور اس طرح کی کوئی وضاحت نہیں کی کہ صرف وہی سوار ہوگا، یا کسی اور کو بھی سوار کرے گا، پھر خود سوار ہوا اور دوسروں کو بھی سوار کیا، اور دورانِ سفر گاڑی کو کوئی نقصان پہنچا تو ائمہٴ ثلاثہ یعنی امام ابوحنیفہ، امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ کے نزدیک کرایہ دار نقصان کا ضامن ہوگا۔

الحجة علی ما قلنا :

 ما في ” النتف في الفتاوی “ : وأما استئجار الدابة فعلیٰ وجهین : أحدهما : أن یکتري دابة ویقیدها برکوب نفسه خاصة ، والآخر : أن یکتریها مرسلة ولا یقیدها برکوب نفسه ، ثم أرکبها غیره وعطبت الدابة فعلیه الضمان ، وإن رکبها وأرکب معه آخر فعطبت الدابة ففي قول أبي حنیفة وأصحابه یضمن بمقدار الآخر ۔

(ص/۳۴۴ ، کتاب الإجارة ، استئجار الدابة)

ما في ” بدائع الصنائع “ : ولو استأجر دابة لیرکبها ، لیس له أن یرکب غیره ، وإن فعل ضمن ۔(۴۷/۶ ، کتاب الإجارة)

ما في ” البحر الرائق “ : وإن قید براکب أو لابس فخالف ضمن اه ۔ (۵۲۳/۷ ، کتاب الإجارة ، باب ما یجوز من الإجارة وما یکون خلافا فیها)

ما في ” الهندیة “ : فإن أطلق الرکوب جاز أن یرکب من شاء ۔ (۴۸۷/۴ ، الباب السادس والعشرون فی استئجار الدواب للرکوب ، الهدایة :۲۹۸/۳ ، نتائج الأفکار تکملة فتح القدیر : ۸۳/۹ ، کتاب التجارات ، ما یجوز من الإجارة وما یکون خلافا فیها)

اوپر تک سکرول کریں۔