مسئلہ:
آج کل بعض ممالک، سرکاری اورنیم سرکاری ادارے ،اپنی ماتحتی وسرپرستی میں کھیلوں اوران کی میچوں کو منعقد کرتے ہیں،اور ان میچوں کو دکھانے کیلئے پلے گراوٴنڈ (Playground)یا اسٹیڈیم (Stadium) میں داخلے کیلئے ٹکٹ وصول کرتے ہیں، ان کھیلوں اورمیچوں میں ٹکٹ لے کر اسٹیڈیم (Stadiam)میں جانا اور ان کھیلوں اور میچوں کا دیکھناشرعاً اس وقت جائز ہے ،جب کہ ان کھیلوں اور میچوں میں ستر پوشی کا پورا انتظام ہو، اور غیر شرعی کا م وہاں پر نہ کئے جاتے ہوں ، اگر اسٹیڈیم میں نامحرم کھیل رہے ہوں، یاکھیلنے والوں کی سترِ شرعی ڈھکی ہو ئی نہ ہو،یااس کے علاوہ کوئی او ر خلافِ شرع امر انجام دیا جارہا ہو، تو ٹکٹ لینا اور دینا اور اس میچ کا دیکھنا سبھی امور ناجائز ہیں ۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الهندیة “ : ولا تجوز الإجارة علی شيء من الغناء والنوح والمزامیر والطبل وشيء من اللهو وعلی هذا الحداء وقراء ة الشعر وغیره ، ولا أجر في ذلک وهذا کله قول أبي حنیفة وأبي یوسف ومحمد رحمهم الله تعالیٰ ، کذا في غایة البیان ۔
(۴۴۹/۴ ، کتاب الإجارة ، الباب السادس فی مسائل الشیوع فی الإجارة ، والإجارة علی الطاعات والمعاصی)
ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : لا تصح الإجارة لعسب التیس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولأجل المعاصي مثل الغناء والنوح والملاھي ۔ ” تنویر “ ۔
(۷۵/۹ ، کتاب الإجارة ، باب الإجارة الفاسدة)
