مسئلہ:
بعض لوگ پارٹنرشپ (Partnership) میں کاروبار کرتے ہیں، جس میں دونوں کی رقم برابرہوتی ہے ، اور ابتداء ہی سے آپس میں یہ بات طے کر لیتے ہیں کہ ہر ماہ قرعہ اندازی کی جائے گی، جس کا نام قرعہ اندازی سے نکل آئیگا صرف وہی نفع ونقصان کا ضامن ہوگا،خواہ ہرمہینہ ایک ہی شریک کا نام نکلتا رہے، اس طرح سے کاروبار کرنا مکمل طور پر قمار یعنی جو ا کو شامل ہے جو شرعاً حرام ہے، لہٰذا شرکت کا یہ طریقہ بھی ناجائز وحرام ہوگا۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿إنما الخمر والمیسر والأنصاب والأزلام رجسٌ من عمل الشیطٰن﴾ ۔ (سورة المائدة : ۹۰)
ما في ” معجم لغة الفقهاء “ : القمار تعلیق الملک علی الخطر والمال من الجانبین ۔ (ص/۳۶۹)
ما في ” الشامیة “ : قال ابن عابدین الشامي رحمه الله تعالی : لأن القمار من القمر الذي یزداد تارة وینقص أخری ؛ وسمي القمار قمارًا لأن کل واحد من المقامرین ممن یجوز أن یذهب ماله إلی صاحبه ، ویجوز أن یستفید مال صاحبه ، وهو حرام بالنص ۔ (۵۷۷/۹ ، الحظر والإباحة ، باب الاستبراء ، فصل في البیع)
