مسئلہ:
اگرکسی شخص کی چپل یاجوتا مسجد سے تبدیل ہوگیا، یاجہاز یابس وغیرہ میں بیگ تبدیل ہوگیااورغلطی سے دوسرے کابیگ آگیاتواس کا استعمال جائز نہیں ہے(۱)، کیوں کہ یہ بات یقینی نہیں ہے کہ جس نے جوتا یاچپل یا بیگ لیا ہے ، یہ جوتایا چپل اور بیگ اسی کاہے، اوراگر یقین ہو بھی توچونکہ باہمی اس کے مبادلہ کا کوئی معاملہ نہیں ہوا، اس لیے اس کاحکم لقطہ یعنی گری پڑی چیزکا ہوگا ، اس کے مالک کو تلاش کرکے واپس کرنا لازم وضروری ہے ، اور اگر مالک کے ملنے سے ناامید ہوجائے تو مالک کی طرف سے صدقہ کردے، اوراگر خودفقیر ہوتواس کو استعمال کرسکتا ہے ۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” إمداد المفتیین المسمی بالفتاوی العزیزیة “ : کما في العالمکیریة : قال : امرأة وضعت ملأتها ، وجاء ت امرأة أخری وضعت ملأ تها ، ثم جاء ت الأولی وأخذت ملأة الثانیة وذهبت لا یسع للثانیة أن ینتفع ملائتها ۔ (۷۲۷/۲ ، باب الودیعة والأمانة)
ما في ” دررالحکام “ : لا یجوز لأحد أن یتصرّف في ملک الغیر بلا إذنه ۔(۹۶/۱ ، رقم المادة :۹۶)
(۲) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : قال الحصکفي : فینتفع بها لو فقیرًا وإلا فتصدق علی فقیر ، ولو علی أصله وفرعه وعرسه ۔۔۔۔۔۔ فإن جاء مالکها بعد التصدق خیر بین إجازة فعله ۔ (۴۳۷/۶ ، ۴۳۸ ، کتاب اللقطة)
