لباس زیب تن کرنے میں موسم کی رعایت

مسئلہ:

ہرآدمی کے لئے اس قدر کپڑا پہننا فرض ہے جس سے وہ اپنے ستر کو چھپاسکے ،اور اس کے لئے سردی گرمی سے دفاع ممکن ہو، کیوں کہ ستر چھپا ئے بغیر نماز نہیں ہوتی ،اور خلقةً انسان سخت سردی اور گرمی کا متحمل نہیں ،اس لئے لباس میں موسم کی رعایت اولیٰ اور بہتر ہے ، سرما میں متوسط درجہ کا” اونی“ یا کوئی اور گرم کپڑا ،اور گرما میں متوسط درجہ کا ”سوتی“ کپڑا اولیٰ ہے، تاکہ انتہائی سستے کپڑے میں اس کی تحقیر لازم نہ آئے، اور نہ انتہائی نفیس اور قیمتی کپڑے کے پہننے میں اس کا شمار متکبرین میں ہو، کیوں کہ آپ ا نے دو شہرتوں سے منع فرمایا ،ایک وہ شہرت جو انتہائی نفاست میں ہو، اور دوسری وہ شہرت جو انتہائی خساست میں ہو۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” القرآن الکریم “ : قوله تعالیٰ : ﴿خذوا زینتکم عند کل مسجد﴾ ۔ (سورة الأعراف : ۳۱)

وقال أیضًا : ﴿وجعل لکم سر ابیل تقیکم الحرّ وسرابیل تقیکم بأسکم﴾ ۔(سورة النحل :۸۱)

ما في ” جامع الترمذي “ : عن عمرو بن شعیب عن أبیه عن جده قال : قال رسول الله ﷺ : ” إن الله یحب أن یری أثر نعمته علی عبده “ ۔

(۱۰۹/۲ ، أبواب الآداب ، باب ما جاء ان الله یحب أن یری أثر نعمته علی عبده)

ما في ” حاشیة الترمذي “ : قوله ﷺ : (إن الله یحب أن یری أثر نعمته علی عبده) ۔ أي ینبغي أن یظهر أثر نعمة الله في حقه فلیلبس ما یناسب حاله فإنه شکر فعلي ، وأیضًا یقصده المحتاجون فیتصدق علیهم ۔ ۱۲ ۔ (۱۰۹/۲ ، رقم الحاشیة : ۷ ، قدیمي)

ما في ” مجمع الأنهر شرح ملتقی الأبحر “ : والأولی کونه من القطن أو الکتان وهو المأثور وهو أبعد عن الخیلاء بین النفیس والخسیس ، لئلا یحتقر في الدني ویأخذ الخیلاء في النفیس ، وعن النبي ﷺ أنه نهیٰ عن الشهرتین : وهو ما کان في نهایة النفاسة ، وما کان في نهایة الخساسة ، وخیر الأمور أوساطها “ ۔

(۱۹۱/۴، کتاب الکراهیة ، فصل في اللبس ، الاختیار لتعلیل المختار : ۶۹/۱ ، باب ما یفعل قبل الصلاة)

اوپر تک سکرول کریں۔