مسئلہ:
آ ج کل جدید تعلیم یافتہ لوگ ٹائی (Tiey)کو بڑے فخر سے اپنے گلے میں لٹکاتے ہیں، یہ شرعاً بالکل نا جائز ہے، اس لئے کہ یہ صلیب نما ہوا کرتی ہے، اور صلیب (Red cross)شعارِ نصاریٰ ہے، اور ہمیں ان کے شعارمیں مشابہت سے منع کیا گیا ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” القرآن الکریم “ : قوله تعالیٰ : ﴿ولا ترکنوا إلی الذین ظلموا فتمسکم النار﴾.(سورة هود :۱۱۳)
ما في ” حاشیة القونوي علی تفسیر البیضاوي “ : قال ابن عباس : أي لا تمیلوا ، والرکون المحبة والمیل بالقلب ، وقال أبو العالیة : لا ترضوا بأعمالهم ، وقال عکرمة : لا تطیعوهم ؛ قال البیضاوي : لا تمیلوا إلیهم أدنی میل ، فإن الرکون هو المیل الیسیرکالتزیی بزیهم وتعظیم ذکرهم ۔ (۲۲۶/۱۰ ، تفسیر المظهري :۴۳۰/۴)
ما في ” معارف القرآن شفیعي “ :حضرت قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایاکہ” مراد ہے کہ ظالموں سے دوستی نہ کرو اوران کا کہا نہ مانو“،ابنِ جریج رحمہ اللہ نے فرمایا کہ” ظالموں کی طرف کسی طرح کابھی میلان نہ رکھو“،ابوالعالیہ رحمہ اللہ نے فرمایاکہ” ان کے اعمال وافعال کوپسند نہ کرو“(قرطبی)، سدّی رحمہ اللہ نے فرمایاکہ ”ظالموں سے مداہنت نہ کرو،یعنی ان کے برے اعمال پر سکوت یارضاکااظہار نہ کرو“،عکرمہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ” ظالموں کی صحبت میں نہ بیٹھو“،قاضی بیضاوی رحمہ اللہ نے فرمایاکہ” شکل وصورت اورفیشن اوررہن سہن کے طریقوں میں ان کا اتباع کرنا یہ سب اسی ممانعت میں داخل ہے“۔ (معارف القرآن:۶۷۳/۴)
ما في ” مشکوة المصابیح “ : قوله علیه السلام : ” أبغض الناس إلی الله ثلاثة ؛ ملحد في الحرم ، ومبتغ في الإسلام سنة الجاهلیة ، ومطلب دم امریٍٴ مسلم بغیر حق لیهریق دمه “ ۔ (ص/۲۷)
ما في ” مرقاة المفاتیح “ :قوله ﷺ :(من تشبه بقوم فهو منهم)۔أي من شبه نفسه بالکفار،مثلا في اللباس وغیره أو بالفساق والفجار أو بأهل التصوف والصلحاء والأبرار۔
(۲۲۲/۸ ، کتاب اللباس ، الفصل الثاني ، رقم الحدیث : ۴۳۴۷)
ما في ” موسوعة تکملة فتح الملهم “ : إن اللباس الذي یتشبه به الإنسان بأقوام کفرة ، لا یجوز لبسه لمسلم إذا قصد به التشبه بھم “ ۔ (۱۰/ ۷۷ ، کتاب اللباس والزینة)
