دینی مدارس میں کتابوں کے اختتام پر دعوتِ طعام وناشتہ

مسئلہ:

مدارسِ اسلامیہ میں سال کے اخیر میں کتابوں کے اختتام پر، کسی درجہ کے استاذِ محترم اپنے ذاتی مصارف سے اپنے طلباء اور دیگر اساتذہ، یاکوئی طالبِ علم اپنے اساتذہ ودیگراساتذہ وطلباء کی دعوتِ طعام یاناشتہ کرے تو شرعاً جائز ہے ، کیوں کہ دعوت کے سلسلے میں ضابطہٴ اسلامی یہ ہے ”الدعوة عند السرور“ جس کی اصل حضرت جابر بن عبد اللہ کی یہ روایت ہے ، کہ رسول اللہ اجب مدینہ منورہ تشریف لائے توایک اونٹ یاگائے ذبح فرمائی۔(۱)

لیکن آج کل کتابوں کے اختتام پردعوتِ طعام وناشتہ میں یہ رواج چل پڑاہے، کہ تمام طلباء اپنے ساتھیوں سے رقم جمع کرتے ہیں، جن میں بعض ایسے غیر مستطیع طلباء بھی ہوتے ہیں ،کہ ان کی ضرورتیں وظیفہ کی رقم سے ہی پوری ہوتی ہیں ، وہ اپنی ضرورتوں کوپسِ پشت ڈال کر ، اوربعض وہ طلباء جن کا وظیفہ بندہے، اورذاتی رقم بھی نہیں رکھتے تووہ دوسروں سے قرض لے کر اس اجتماعی چندہ میں شریک ہوتے ہیں ، تاکہ اپنے ساتھیوں کے طعن وتشنیع،تحقیرو تذلیل ،یااپنے استاذ کی ناراضگی وخفگی سے اپنے آپ کوبچائے ، یاپھراپنی غربت وافلاس پر پردہ پڑارہے ، اس طر ح کی دعوتِ طعام یاناشتہ کا اہتمام کرنا،کروانا، کھانا، کھلاناسب ناجائز وحرام ہے (۲)، کیوں کہ جس رقم سے یہ دعوتِ طعام وناشتہ کی جارہی ہے ، اس میں وہ رقم بھی شامل ہے جوبطیبِ خاطر ، برضاورغبت نہیں دی گئی،لہٰذایہ حرام ہے۔(۳)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” صحیح البخاري “ : عن جابر بن عبد الله أن رسول الله ﷺ لما قدم المدینة نحر جزورًا أو بقرة “ ۔ (۴۳۴/۱ ، کتاب الجهاد ، باب الطعام عند القدوم)

ما في ” الجامع لأحکام القرآن للقرطبي “ : عن نافع عن ابن عمر قال : ” تعلم عمر البقرة في اثنتي عشرة سنة فلما ختمها نحرجزورًا “ ۔ (۳۰/۱)

ما في ” الاختیار لتعلیل المختار “ : ونقل عن أبي حنیفة : وحین حفظ ابنه حماد سورة الفاتحة وهب المعلم خمس مائة درهم ، وکان الکبش یشتری بدرهم ، فاستکثر المعلم هذا السخاء إذ لم یعلمه إلا الفاتحة ، فقال أبوحنیفة : لا تستحقر ما علمت ولدي ، ولوکان معنا أکثر من ذلک لدفعناه إلیک تعظیماً للقرآن ۔

(۷/۱ ، کلمات في ترجمة أیمة المذهب الذین یکثر ذکرهم في الکتاب)

(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿لا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل ﴾ ۔ (سورة النساء : ۲۹)

(۳) ما في ” سنن الدار قطني “ : قوله ﷺ : ” لا یحل مال امریٴٍ مسلم إلا بطیب نفس منه “ ۔

(۲۲/۳ ، کتاب البیوع ، رقم الحدیث :۲۸۶۲ ، مشکوة المصابیح :ص/۲۵۵ ، کتاب الغصب والعاریة ، جمع الجوامع :۷/۹ ، تتمة حرف اللام الألف ، رقم الحدیث :۲۶۷۵۹)

 

اوپر تک سکرول کریں۔