قلم کا ادب واحترام ضروری ہے

مسئلہ:

قلم ذرائعِ علم میں سے ایک ذریعہ ہے، اور ذرائع ووسائل کا ادب واحترام بواسطہٴ وجوبِ مقصود یعنی علم کے واجب ہونے کی وجہ سے واجب ہوتا ہے، اس لئے بیت الخلاء، حمام اور اس جیسے دیگر مقامات پر قلم سے ناصحانہ کلمات لکھنا، یا کسی پر کوئی الزام لگانا، یاکسی کے عیوب کاافشاء کرنا وغیرہ ،شرعاً ناجائزاور مکروہِ تحریمی ہے۔ 

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” القرآن الکریم “ : قوله تعالی : ﴿نٓ والقلم وما یسطرون﴾ ۔ (سورة القلم :۱) وقوله تعالیٰ : ﴿علّم بالقلم﴾ ۔ (سورة العلق :۴)

ما في ” جامع الترمذي “ : عن عبادة بن صامت قال : سمعت رسول الله ﷺ یقول : ” إن أول ما خلق الله القلم ، فقال له : اکتب فجری بما هو کائن إلی الأبد “ ۔

(۱۶۹/۲ ، أبواب التفسیر ، سورة نٓ والقلم)

ما في ” المقاصد الشرعیة “ : إن الوسیلة أو الذریعة تکون محرمة إذا کان المقصد محرما ، وتکون واجبة إذا کان المقصد واجبا ۔ (ص/۴۶)

ما في ” اعلام الموقعین “ : وسیلة المقصود تابعة للمقصود وکلاهما مقصود ۔(۳/ ۱۷۵، فصل في سد الذرائع)

ما في ” الأشباه لإبن نجیم “ : الأمور بمقاصدها ۔ (۱۱۳/۱)

ما في ” معارف القرآن شفیعي “ :حضرت قتادہ نے فرمایا کہ قلم اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے ،اگر یہ نہ ہو تا تونہ کوئی دین قائم رہتا، نہ دنیاکے کاروبار درست ہوتے ۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ اللہ تعالی کا بہت بڑاکرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں کوان چیزوں کاعلم دیا جن کو وہ نہیں جانتے تھے ، اوران کو جہل کی اندھیر ی سے نورِعلم کی طرف نکالا، اورعلم ِکتابت کی ترغیب دی ،کیوں کہ اس میں بے شمار اور بڑے منافع ہیں ،جن کا اللہ کے سوا کوئی احاطہ نہیں کرسکتا، تمام علوم وحکم کی تدوین ،اوراولین وآخرین کی تاریخ ، ان کے حالات و مقالات ،اور اللہ تعالی کی نازل کی ہوئی کتابیں، سب قلم ہی کے ذریعہ لکھی گئیں ،اوررہتی دنیاتک باقی رہیں ، اگر قلم نہ ہوتودنیاودین کے سارے ہی کام مختل ہوجائیں ۔ (معارف القرآن:۷۸۶/۸)

اوپر تک سکرول کریں۔