ختمِ خواجگان کی شرعی حیثیت

مسئلہ:

بعض مدارس میں ختمِ خواجگان اجتماعی طور پر پڑھا جاتا ہے ،اس کے بعد اجتماعی دعا ہوتی ہے ،یہ امر خلاف ِشرع اور مکروہ نہیں ہے ،کیوں کہ ختمِ خواجگان حصولِ بر کت کیلئے پڑھا جاتا ہے ، مشائخ کا مجرب عمل ہے، کہ اس کی برکت سے دعاقبول ہوتی ہے، لہٰذا یہ امرِمباح ہے ،اور امرِمباح پر محض مداومت سے وہ قبیح ومکروہ نہیں ہوتا،بلکہ اس پر اصرار سے وہ مکروہ ہوتا ہے ،اور اصرار یہ ہے کہ کسی عمل کو ہمیشہ کیا جائے، اور نہ کرنے والے کو گنہگار سمجھاجائے، اس کی تحقیر وتذلیل کی جائے ۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” مرقاة المفاتیح “ : لما جاء في الحدیث عن عبد الله بن مسعود قال : لقد رأیت رسول الله ﷺ کثیرًا ینصرف عن یساره ۔ متفق علیه ۔ قال الملا علي القاري في شرح هذا الحدیث : قال الطیبي : وفیه أن من أصرّ علی أمر مندوب وجعله عزمًا ولم یعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشیطٰن من الإضلال ۔

(۲۶/۳ ، کتاب الصلاة ، باب الدعاء في التشهد ، السعایة :۲۶۳/۲ ، ۲۶۵ ، باب صفة الصلاة ، قبیل فصل في القراء ة ، شرح الطیبي :۴۴۶/۲)

(فتاویٰ رحیمیہ: ۲۲۸/۲، فتاویٰ محمودیہ:۱۸۳/۱۰)

اوپر تک سکرول کریں۔