مسئلہ:
کسی طالب علم ،استاذ ومعلم، اور ملزم ونوکر کے غیر حاضر ہونے کے باوجود، کسی دوسرے شخص کا اس کی حاضری لگانا، اور اسے خدمتِ انسانیت سمجھنا محض شیطانی دھوکہ ہے، اور بروزِ قیامت باعثِ موٴاخذہ ہے، کیوں کہ اس کا یہ عمل ان ممنوعاتِ شرعیہ سے مرکب ہے: (۱)جھوٹ، (۲)ادارہ وانتظامیہ کے ساتھ خیانت، (۳)اکلِ مال بالباطل کا ذریعہ بننا، وہ اس طرح کہ غائب کی حاضری لگانے سے، وہ ان تمام مراعات وعوض کا حقدار ہوگا، جو حاضر کو ملاکرتا ہے۔
نوٹ: اتنی بات یا درہے کہ جتنے کام بر بناء انسانیت کئے جائیں وہ محمود ومستحسن نہیں، بلکہ محمود وہی ہیں جو موافقِ شرع ہوں، اور جو مخالفِ شرع ہوں وہ امور انسانی نہیں بلکہ بہیمی ہیں۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في”القرآن الکریم“:﴿لا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل﴾۔(سورة النساء:۲۹)وقوله تعالی:﴿وتعاونوا علی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الإثم والعدوان﴾۔(سورة المائدة :۲)
ما في ” سنن أبي داود “ : قوله ﷺ : ” کبرت خیانة أن تحدث أخاک حدیثا هو لک به مصدق وأنت له به کاذب “ ۔ (ص/۶۷۹ ، کتاب الأدب ، باب في المعاریض)
ما في ” اعلام الموقعین “ : وسیلة المقصود تابعة للمقصود وکلاهما مقصود ۔ (۳/ ۱۷۵، فصل في سد الذرائع)
