راستے پر چلتے وقت ہنسی مذاق کرنااور دوسروں کو تکلیف پہنچانا

مسئلہ:

راستہ پر چلنا ہر کسی کے لئے جائز و مبا ح ہے ،لیکن اس شرط کے ساتھ کہ کسی کو کوئی تکلیف نہ ہو ،بعض لوگ راستہ پر چلتے وقت ہنسی مذاق کرتے ہیں ،اور پورا راستہ گھیر کر چلتے ہیں ،اسی طرح راستہ پر ایسی چیزیں ڈالتے ہیں جس سے راہ گزر کو تکلیف پہنچتی ہے، جیسے” کیلے “ وغیر ہ کھاکر اس کے چھلکے راستے پر ہی ڈالدیتے ہیں ،جس سے بسااوقات راستہ پرچلنے والا انسان پھسل کر گرجاتاہے، اور اسے سخت تکلیف پہنچتی ہے ،یہ تمام باتیں جہاں غیر اخلاقی، غیر اسلامی اور غیر شرعی ہیں،وہیں ایک مہذب اور دیندار معاشرہ کی اعلیٰ اقدار کے سراسر منافی ہیں ،اس لئے اس سے کلی اجتناب برتاجائے ،ان کے ارتکاب سے انسان سخت گنہگار اور لعنت کا مستحق ہوتا ہے ۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” القرآن الکریم “ : قوله تعالیٰ : ﴿والذین یوٴذون الموٴمنین والموٴمنات بغیر ما اکتسبوا﴾ ۔ (سورة الأحزاب : ۵۸)

ما في ” تفسیر القرطبي “ : قال القرطبي رحمه الله تعالی : ” أذی الموٴمنین والموٴمنات هي أیضًا بالأفعال والأقوال القبیحة “ ۔ (۲۴۰/۱۴)

ما في ” صحیح البخاري “ : قوله ﷺ : ” المسلم من سلم المسلمون من لسانه ویده “. (۶/۱ ، کتاب الإیمان ، باب المسلم من سلم المسلمون من لسانه ویده)

ما في ” حاشیة أبي داود “ : قوله ﷺ : ” إیاکم والجلوس بالطرقات “ ۔ ” ویدخل في الأذی أن یضیق الطریق علی المارّین “ ۔ (رقم الحاشیة :۲)

(سنن أبي داود:ص/۶۶۳ ، کتاب الأدب ، باب في الجلوس بالطرقات)

ما في”جمع الجوامع“:عن أبي حذیفة بن أُسید أن النبي ﷺ قال:”من آذی المسلمین في طرقهم وجبت علیه لعنتهم“۔(۳۹۶/۶ ، حرف المیم مع النون ، رقم الحدیث :۲۰۰۳۶)

ما في ” الصحیح لمسلم “ : قوله ﷺ : ” الإیمان بضع وسبعون أو بضع وستون شعبة ، فأفضلها قول لا إلٰه إلا الله ، وأدناها إماطة الأذی عن الطریق ، والحیاء شعبة من الإیمان “ ۔ (۴۷/۱ ، کتاب الإیمان ، باب بیان عدد شعب الإیمان وأفضلها وأدناها ۔ الخ)

اوپر تک سکرول کریں۔