مریضوں کو پھولوں کے گلدستہ کاتحفہ ،یورپ کی اندھی تقلید

مسئلہ:

بعض لوگ بیماروں کومصنوعی پھول ہدیہ میں دیتے ہیں ،ان پھولوں کانہ کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی اہمیت ،نہ ان سے بیمار کو شفا ملتی ہے ،اورنہ ہی اس کی تکلیف اور درد کم ہوتاہے، نہ ان سے صحت حاصل ہوتی ہے نہ امراض دور ہوتے ہیں،کیوں کہ یہ مصنوعی پھول ہیں، جوانسانی ہاتھوں اور آلات کی پیداوار ہیں ،انہیں بنانے والے ان کو اونچی اونچی قیمتوں میں فروخت کرتے ہیں ،اور خوب نفع کماتے ہیں، اس میں خریدنے والوں کا سراسر نقصان ہی نقصان ہے ،کیوں کہ یہ پھول مریض کے پاس بڑی مشکل سے ایک دوگھنٹے یا ایک دودن باقی رہتے ہیں ،پھر ان کو ردیوں کے ساتھ پھینک دیا جاتا ہے، یہ رسم بلاسوچے سمجھے مغرب کی اندھی تقلید ہے ،جوپیسہ ان کی خرید میں صرف (خرچ) ہوا ،اس کا فائدہ نہ خریدنے والے کو ملا اور نہ مریض کو ،جب کہ مال اللہ کی نعمت ہے ، اس طرح اس کو ضائع کرنا شرعاً ناجائز وحرام ہے، اس لیے اس سے کلی اجتناب برتاجائے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” القرآن الکریم “ : قوله تعالیٰ : ﴿ولا تبذّر تبذیرًا﴾ ۔ (سورة بني اسرائیل :۲۷)

ما في ” التفسیر الکبیر “ : والتبذیر في اللغة : افاد المال وإنفاقه في السرف ۔ (۷/ ۳۲۸)

ما في ” صحیح البخاري “ : وعن المغیرة بن شعبة قال : قال النبي ﷺ : ” إن الله حرّم علیکم عقوق الأمهات ، ووأد البنات ، ومنعًا وهات ، وکره لکم قیل وقال ، وکثرة السوٴال ، وإضاعة المال “ ۔ (۳۲۴/۱ ، کتاب في الاستقراض وأداء الدیون والحجر الخ ، باب ما ینهی عن إضاعة المال)

ما في ” مشکوة المصابیح “ : قوله ﷺ : ” أبغض الناس إلی الله ثلا ثة : ملحد في الحرم ومبتغ في الإسلام سنة الجاهلیة ، ومطلب دم امریٍٴ مسلم بغیر حق لیهریق دمه “ ۔

(ص/۲۷ ، باب الاعتصام بالکتاب والسنة ، الفصل الأول)

(فتاویٰ رحیمیه :۱۰/۱۶۱)

اوپر تک سکرول کریں۔