مسئلہ :
انٹرنیٹ ایک ایسا جدید مواصلاتی نظام ہے، جس کے ذریعے دنیا ایک چھوٹی سی آبادی کی شکل میں تبدیل ہوگئی ہے ،انسان گھر بیٹھے دنیا کے چپے چپے اور مختلف الاجناس افراد کی سیر کرتا ہے ، انٹرنیٹ کے ذریعے انسان دین واسلام کو گھر بیٹھے دنیا کے ہر طبقے میں متعارف کراسکتا ہے ،اور پور ے عالم کو اللہ تعالیٰ کی قدرتوں میں غور کرنے ، توحید ورسالت اور آخرت کی دعوت دینے میں استعمال کرسکتا ہے ،اسی طرح تعصب وعناد، اختلاف وانتشار اور بد اخلاقی وغیرہ کی بھی انٹرنیٹ کے ذریعہ دعوت د ی جاسکتی ہے ، جس سے افرادِ انسانی میں اختلاف وانتشار کی فضا آخری حد تک عام کی جا سکتی ہے ۔
اگرانٹرنیٹ کا استعمال پہلے مقصد کیلئے ہے تو اس کا استعمال جائز ہے، اور اگر دوسرے مقصد کے لیے ہے تو اس کا استعمال نا جائز اور حرام ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الأشباه لإبن نجیم “ : ” الأمور بمقاصدها “ ۔ (۱۱۳/۱)
ما في ” المقاصد الشرعیة “ : ” إن الوسیلة أو الذریعة تکون محرمة إذا کان المقصد محرما ، وتکون واجبة إذا کان المقصد واجبا “ ۔ (ص/۴۶ ، اعلام الموقعین :۱۵۷/۳)
