مسئلہ:
عقدِ نکاح بمقا بلہٴ عقدِبیع نازک ہے ،اور اس میں عبادت کا بھی پہلو ہے،دو گواہ بھی شرط ہے، اس لئے براہِ راست انٹرنیٹ،ویڈ یوکانفرنسنگ اور فون پرنکاح کا ایجاب وقبول شرعاً معتبر نہیں ہوگا،ہاں اگر ان ذرائع ابلاغ پر کسی کو نکاح کا وکیل بنایا جائے ،اوروہ دوگواہوں کے سامنے اپنے موٴکل کی طرف سے ایجاب وقبول کرلے تونکاح درست ہوگا، بشرطیکہ گواہ موٴکل غا ئب کو جانتے ہوں ،یا بوقتِ ایجاب وقبول اس کا نام مع ولدیت لیا گیا ہو۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” خلاصة الفتاوی “ : امرأة وکلت رجلا بأن یزوجها من نفسه ، فقال الوکیل : اشهدوا أني قد تزوجت فلانة من نفسي ، إن لم یعرف الشهود فلانة لا یجوز النکاح ما لم یذکر اسمها واسم أبیها وجدها ۔ (۱۵/۲، کتاب النکاح ، الفصل السادس في الشهود)
ما في ” نصب الرایة للزیلعي “ : رُوي أنه علیه السلام وکل بالتزوج عمر بن أبي سلمة ۔ (۱۹۲/۴ ، کتاب الوکالة)
